مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 322 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 322

مضامین بشیر جلد سوم 322 میں اس موقع پر جماعت کے احباب سے یہ بات بھی کہنے سے رک نہیں سکتا کہ درد صاحب نے ایک بہت بڑا کنبہ چھوڑا ہے۔جس میں ان کی بوڑھی والدہ اور دو بیویاں اور غالباً چودہ بچے (لڑکے اور لڑکیاں ) شامل ہیں۔جن میں سے اکثر غیر شادی شدہ اور زیر تعلیم ہیں اور حقیقتا ان میں سے کوئی بھی برسر روزگار نہیں اور در دصاحب نے جس قلیل تنخواہ پر گزارہ کیا اس میں کسی جائیداد یا اثاثہ چھوڑ نے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔البتہ درد صاحب نے کچھ نہ کچھ قرضہ ضرور چھوڑا ہو گا اور پھر وہ ایسی حالت میں فوت ہوئے ہیں جبکہ ابھی چند ماہ ہوئے وہ ریٹائر ہو کر پھر دوبارہ کام پر لگے تھے اور اس طرح وہ گویا پنشن کے حق سے بھی محروم رہے ہیں۔اس صورت میں جماعت کا فرض ہے کہ وہ اپنے قدیم اور مخلص کارکن کے پسماندگان کے لئے مناسب وقت تک مناسب امداد کا انتظام کرے۔بے شک یہ انجمن کا کام ہے لیکن انجمن بھی تو آپ لوگوں کی ہی نمائندہ ہے اور اپنی تجویز اور اپنی قربانی سے انجمن کے ہاتھ مضبوط کرنا آپ لوگوں کا فرض ہے۔بالآخر میں ایک ذاتی افسوس کا اظہار بھی کرنا چاہتا ہوں۔جیسا کہ احباب کو معلوم ہے میں اس وقت والدہ مظفر احمد کی تشویشناک علالت اور پھر خود بیماری کی وجہ سے لاہور میں زیر علاج ہوں اور سوء اتفاق سے ان مخصوص دنوں میں والدہ مظفر احمد کو زیادہ تکلیف رہی ہے اور دو تین دن تک قریباً چوبیس گھنٹے ان کے سخت بے تابی میں گزرے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب درد صاحب کی اچانک وفات کی اطلاع مجھے ملی تو میں نے ایسا محسوس کیا کہ گویا ایک بم کا گولا آگرا ہے اور طبیعت کی انتہائی نڈھالی کے علاوہ مجھے گلے میں سانس کی تکلیف سے چوکنگ بھی شروع ہوگئی اس لئے میں درد صاحب کی وفات پر اپنی دلی خواہش کے باوجود ربوہ نہیں جاسکا جس کا مجھے سخت قلق ہے۔حقیقتاً میں اس وقت اس قابل ہی نہیں رہا تھا کہ اس قسم کے دردناک ماحول میں جاؤں۔اس لئے ایک معذور انسان کی طرح میں نے لاہور میں رہ کر ہی دعا میں وقت گزارا اور حضرت صاحب اور در دصاحب کی فیملی کے ساتھ تار کے ذریعہ دلی ہمدردی کا اظہار کرنے پر اکتفا کی۔اللہ تعالیٰ میری اس کمزوری کو کہ میں ربوہ نہیں جا سکا معاف فرمائے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ در دصاحب کی روح بھی میری بے بسی کی حالت دیکھتے ہوئے مجھے معذور خیال کرے گی۔میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے۔ان پر اپنے خاص فضل و رحمت کا سایہ رکھے اور ان کے اہل وعیال اور بچوں کا دین ودنیا میں حافظ و ناصر ہو۔آمِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ روزنامه الفضل 14 دسمبر 1955ء)