مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 321 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 321

مضامین بشیر جلد سوم 321 عبد المغنی خاں صاحب سابق ناظر دعوت و تبلیغ اور مکرم صوفی مطیع الرحمن صاحب سابق مبلغ امریکہ اور مکرمی مولوی نذیر احمد صاحب علی مبلغ مغربی افریقہ کی وفات بھی اسی سال کے دوران میں ہوئی ہے۔گویا یہ ہمارا عام الحزن ہے۔گو اس سے پہلے بھی حضرت اماں جان نور اللہ مرقدہا کی وفات والے انتہائی تلخ سال کے علاوہ ہجرت والے سال یعنی 47ء میں بھی ایک تلخ عام الحزن گزر چکا ہے۔جبکہ ہجرت والے سال یعنی 1947ء میں حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب اور حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب اور حضرت صوفی غلام محمد صاحب مبلغ ماریشس اور حضرت مولوی شیر علی صاحب نے ایک ہی سال کے اندر اندر انتقال کیا۔مگر آ جا کے بات وہیں آجاتی ہے۔کہ دنیا فانی ہے اور ہر انسان نے آگے پیچھے خدا کے حضور حاضر ہونا ہے اور بقول حضرت مسیح موعود علیہ السلام بلانے والا ہے پیارا اسی اے دل تو جاں فدا کر مگر در دصاحب کی اچانک وفات کے ساتھ سب سے زیادہ فکر والا جذ بہ جو میرے دل میں پیدا ہورہا ہے۔وہ یہ ہے کہ سلسلہ کے پرانے اور تجربہ کا کارکن جن میں سے بعض نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ سے اور بعض نے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے زمانہ سے اور اکثر نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ابتدائی زمانہ سے سلسلہ کی خدمت میں زندگی گزاری ہے وہ آہستہ آہستہ گزرتے جا رہے ہیں اور اس کے مقابل پر آنے والوں میں سے اکثر میں ابھی تک وہ خاص رنگ پیدا نہیں ہوا جو ایک خدائی جماعت کے کارکنوں میں ہونا چاہئے اور دوسری طرف جماعت کا حلقہ اور جماعت کی ذمہ داریاں پہلے کی نسبت بہت زیادہ وسیع ہو گئی ہیں۔بے شک سلسلہ خدا کا ہے اور وہی اس کا محافظ اور مربی ہوگا۔لیکن ظاہری اسباب کے لحاظ سے ان اوپر تلے کی موتوں سے دل سخت گھبرا تا اور بے حد فکر مند ہوتا ہے۔اے سلسلہ کے نو جوانو ! اور ہماری آنکھوں کے تارو ! میری یہ بات گوش ہوش سے سنو۔اور خدا کے لئے اپنے اندر وہ محبت اور وہ اخلاص اور وہ جذبہ قربانی اور وہ قابلیت اور وہ للہیت اور وہ ذوق عبادت اور وہ دعاؤں میں شغف پیدا کرو جو ایک خدائی جماعت کے شایان شان اور اس کی کامیابی کے لئے ضروری ہے ورنہ بقول حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ: ہم تو جس طرح بننے کام کئے جاتے ہیں آپ کے وقت میں یہ سلسلہ بدنام نہ ہو