مضامین بشیر (جلد 3) — Page 319
مضامین بشیر جلد سوم 319 خدمت میں آئے۔تو میری ہی تجویز پر ہم دونوں نے یہ عہد کیا تھا کہ خدا کی توفیق سے ہم ہمیشہ سلسلہ کی خدمت میں زندگی گزاریں گے اور کبھی کسی معاوضہ یا ترقی یا حق کا مطالبہ نہیں کریں گے اور میرے لئے انتہائی خوشی اور در دصاحب کے خاندان کے لئے انتہائی فخر کا مقام ہے کہ درد صاحب نے اس عہد کو کامل وفاداری سے نبھایا اور مِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَہ کے مقام پر فائز ہو گئے اور میرا انجام خدا کو معلوم ہے۔گو میں بھی اپنی کمزوریوں کے باوجود خدا کی رحمت کا امیدوار ہوں۔درد صاحب کا خاص وصف یہ تھا۔جس میں مجھے بھی اکثر اوقات ان پر رشک آتا تھا کہ اگر کبھی حضرت صاحب کی طرف سے یا انجمن وغیرہ کی طرف سے ان کی کسی بات پر گرفت ہوتی تھی اور گرفت سے کون انسان بالا ہے) تو وہ اسے انتہائی صبر اور ضبط کے ساتھ برداشت کرتے تھے اور اپنی بریت کا معاملہ بھی صرف خدا پر چھوڑتے تھے۔غالباً 1924ء میں درد صاحب کو لندن مشن میں پہلی دفعہ مبلغ بنا کر بھجوایا گیا۔جہاں انہوں نے 1928 ء تک کام کیا۔اور اسی زمانہ میں لندن مسجد کی بنیاد رکھی گئی اور اسی زمانہ میں وہ تعمیر ہوئی۔اس کے بعد وہ دوبارہ 1933 ء میں لندن گئے اور 1938ء میں واپس آئے۔یہ وہی زمانہ ہے جس میں ہمارے خاندان کے چار بچوں نے ولایت میں تعلیم پائی اور درد صاحب کمال محبت سے ان کی سر پرستی فرماتے رہے۔اس کے بعد در دصاحب نے ولایت سے واپس آکر اکثر زمانہ نظارت تعلیم وتربیت اور نظارت دعوت وتبلیغ میں گزارا مگر ان کا خاص کام نظارت امور خارجہ سے تعلق رکھتا ہے۔جہاں وہ غیر معمولی طو پر کامیاب رہے۔درد صاحب کو حکومت کے افسروں اور غیر از جماعت اصحاب کے ساتھ ملنے کا خاص ڈھنگ آتا تھا۔اور وہ ان ملاقاتوں میں غیر معمولی طور پر کامیاب رہتے تھے۔مزاج کی سادگی اور کچھ مالی تنگی کی وجہ سے ان کا لباس بہت ہی سادہ بلکہ بعض اوقات درویشانہ رنگ کا ہوتا تھا۔مگر لوگوں سے اس قابلیت اور وقار کے ساتھ ملتے تھے کہ وہ بہت جلد ان کے زیر اثر آجاتے تھے اور درد صاحب اکثر اپنی بات منوا کر ہی اٹھتے تھے۔بظاہر حالات مجھے امید نہیں کہ جماعت کو قریب کے زمانہ میں درد صاحب جیسا کامیاب ناظر امور خارجہ میسر آئے۔وَلَعَلَّ اللهُ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَالِكَ أَمْرًا - کچھ عرصہ درد صاحب نے انگریزی ترجمہ قرآن کریم کے بورڈ میں بھی کام کیا جس میں حضرت مولوی شیر علی صاحب مرحوم اور ملک غلام فرید صاحب ایم اے اور چوہدری ابوالہاشم خاں صاحب مرحوم اور یہ خاکسار کام کرتے تھے اور درد صاحب کی قابلیت بورڈ کے لئے بہت مفید اور کارآمد ثابت ہوتی تھی۔جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا ہے۔میرے ساتھ ذاتی تعلقات در دصاحب کے 1916 ء میں یعنی