مضامین بشیر (جلد 3) — Page 313
مضامین بشیر جلد سوم 313 نزول کی صحیح کیفیت کا حامل ہے۔پس دراصل یہی وہ سفر ہے جس پر اوپر کی تین پیشگوئیاں واضح طور پر چسپاں ہوتی ہیں۔اس عظیم الشان پس منظر کی روشنی میں جہاں حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کی ارفع شان اور بلند مقام کا ثبوت ملتا ہے وہاں حضور کے اس سفر کو بھی ایک غیر معمولی دینی اہمیت حاصل ہو جاتی ہے۔مگر خدا کی کوئی نعمت ایسی نہیں ہوتی جس کے ساتھ کوئی خاص ذمہ داریاں نہ لگی ہوئی ہوں اور ان بھاری پیشگوئیوں کی تکمیل بھی اپنے ساتھ خاص ذمہ داری رکھتی ہے۔جسے پورا کرنا جماعت کا فرض ہے۔یہ ذمہ داری جیسا کہ قرآن مجید اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات سے ثابت ہوتا ہے خدمت دین اور اشاعت دین سے تعلق رکھتی ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَ لَيُبَدِّلَنَّهُم مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا (النور: 56) ہم تمام خلفاء برحق کے دین کو مضبوطی اور استحکام عطا کریں گے اور ان کی خوف کی حالت کو امن کی حالت میں بدل دیں گے۔اس آیت سے پتہ لگتا ہے کہ خلافت کے لئے خدا کی طرف سے یہ علامت مقرر ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ایسے سامان عطا فرماتا ہے اور ایسے رنگ میں ان کی نصرت کرتا ہے کہ جس دین کی حفاظت اور خدمت کے لئے وہ کھڑے ہوتے ہیں اسے مضبوطی اور استحکام حاصل ہوتا جاتا ہے اور اگر مخالف طاقتوں کی طرف سے ان کے لئے کوئی خوف کی حالت پیدا ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس حالت کو دور کر کے امن اور ترقی کا ماحول پیدا کر دیتا ہے۔دوسری علامت جو مصلح موعود کے لئے خاص ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے اس مکاشفہ سے پتہ لگتی ہے جو اوپر درج کیا جا چکا ہے اور وہ الہام اور مکاشفہ یہ ہے۔وہ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔اور قو میں اس سے برکت پائیں گی۔(اشتہار 20 فروری 1886ء۔مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 96 طبع دوم ) میں تقریر کرتے ہوئے کہتا ہوں۔میں وہ ہوں جس کے ظہور کے لئے انیس سو سال سے کنواریاں منتظر بیٹھی تھیں، الفضل مورخہ یکم فروری 1944 ء مکاشفہ حضرت خلیفہ لمسیح الثانی)