مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 309 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 309

مضامین بشیر جلد سوم نئے کارکن کسی دن حسرت کے ساتھ یہ کہنے پر مجبور نہ ہوں کہ۔یاران تیز گام نے محمل کو جا لیا 309 ہم محو نالہ جرس کارواں رہے (195512) روزنامه الفضل 16 ستمبر 1955ء) اے آمدنت باعث آبادی ما دیر آمده از ره دور آمده خدائی نشانوں کا غیر معمولی اجتماع جیسا کہ احباب جماعت کو معلوم ہے حضرتخلیفہ مسیح اثنی ایدہ اللہ تعالی اپنے طویل غیرملکی سفر کے بعد پاکستان واپس تشریف لے آئے ہیں۔یہ سفر گو بظاہر حالات علاج کی غرض سے تھا مگر جیسا کہ بعد کے حالات نے ظاہر کیا ہے اس سفر میں در حقیقت ایک خاص الہی تقدیر جو اعلائے کلمۃ اللہ سے تعلق رکھتی ہے کام کر رہی تھی اور بہت کی پیشگوئیوں کا ظہور مقد رتھا۔پس جہاں اس وقت ہر مخلص احمدی کا دل اس بات پر غیر معمولی خوشی محسوس کر رہا ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خدا تعالیٰ کے فضل سے صحت یاب ہو کر واپس تشریف لائے ہیں۔وہاں جماعت کے قلوب اس روحانی مسرت سے بھی معمور اور سرشار ہیں کہ حضور کے اس سفر میں بہت سی پیشگوئیوں نے پورا ہو کر اللہ تعالیٰ کی ہستی اور حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ کی صداقت اور آپ کے ارفع مقام کا عظیم الشان ثبوت پیش کیا ہے۔سب سے پہلی پیشگوئی ہمارے آقا سید الاولین والآخرین حضرت خاتم النبین صلے اللہ علیہ وسلم کی ہے جہاں آپ مسیح کے نزولِ ثانی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ۔فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَالِكَ إِذْ بَعْتَ اللهُ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةَ الْبَيْضَاءَ شَرْقِی دَمِشُقَ بَيْنَ مَهْزُودَتَيْن ( صحیح مسلم کتاب الفتن ) یعنی دجالی طاقتیں اسی زور شور کی حالت میں ہوں گی (جس کا ذکر اس حدیث کے شروع میں ہے) کہ اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم کو مبعوث فرمائے گا جو دمشق کے مشرق کی طرف ایک سفید منارہ کے پاس دو زرد