مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 300 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 300

مضامین بشیر جلد سوم 300 عزیزان مظفر و قیوم ربوہ جا رہے ہیں۔میری بھی خواہش تھی کہ میں اس موقع پر جاتا مگر اعصاب کی موجودہ حالت ایسی ہے کہ میں اس صدمہ کو برداشت نہیں کر سکتا۔میری طرف سے سب عزیزوں کو ہمدردی کا پیغام پہنچا دیں۔اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہو اور اپنے فضل و رحمت کے سایہ میں رکھے۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری ایام میں خاص خدمت کا موقع دیا ہے۔( محرره 7 اگست 1955 ء ) روزنامه الفضل 9 اگست 1955ء) حضرت اماں جی کی اندوہناک وفات ابھی ابھی ربوہ سے حضرت اماں جی صاحبہ (اہل خانہ حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ کی وفات کی اطلاع پہنچی ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - وَكُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَان وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَام - حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی جو غیر معمولی قدر ومنزلت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظروں میں تھی وہ سب جماعت پر ظاہر وعیاں ہے اور پھر حضرت اماں جی مرحومہ حضرت خلیفہ اول کی حرم محترم ہی نہیں تھی بلکہ ایک عالی مرتبہ بزرگ حضرت منشی احمد جان صاحب مرحوم لدھیانوی کی صاحبزادی بھی تھیں۔یہ وہی بزرگ ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود کے دعوی سے قبل حضور کے عالی شان مقام کو پہچان کر ایک شعر میں حضرت مسیح موعود کولکھا تھا کہ تمہیں پہ نظر ہم مریضوں کی ہے تم مسیحا بنو خدا کے لئے مگر افسوس کہ وہ حضرت مسیح موعود کے دعوئی اور سلسلہ بیعت سے پہلے ہی فوت ہو گئے۔انہوں نے اپنے پیچھے حضرت پیر منظور محمد صاحب مرحوم اور حضرت پیر افتخار احمد صاحب مرحوم جیسی نیک اور بزرگ اولاد چھوڑی۔جواب ربوہ میں حضرت اماں جان نور اللہ مرقدہا کے مزار کے قریب دفن ہیں۔حضرت اماں جی جن کی اب وفات ہوئی ہے انہی دو بزرگوں کی چھوٹی ہمشیرہ تھیں۔مگر حضرت اماں جی کی قدر و منزلت کا سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ وہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ تھیں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے اخلاق اور روحانی مقام کے بعض پہلو ایسے دلکش ہیں کہ