مضامین بشیر (جلد 3) — Page 299
مضامین بشیر جلد سوم 299 ہو۔اے خدا! تو ایسا ہی کر اے خدا! تو ہمیں اس پاک جماعت میں شامل فرما جس نے اپنی عدیم المثال قربانیوں کی وجہ سے رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوا عَنْهُ کا انعام پایا۔آمین اللهم آمین بالآخر میں دوستوں کو اپنی وہ اپیل پھر یاد دلاتا ہوں جو حال ہی میں میں نے اسلام کی ترقی اور اس زمانہ میں اسلام کے عالی مرتبت علمبر دار حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی صحت اور درازی عمر کی دعاؤں کے متعلق ہے۔اس وقت اسلام ایک خاص دور میں سے گزر رہا ہے اور خدائی فرشتوں کی مخفی فوج مادی دنیا کے پرستاروں کو کھینچ کھینچ کر اسلام کی پاکیزہ روحانی فضا کی طرف لا رہی ہے اور زمین و آسمان میں ایک بھاری تغیر کے آثار پیدا ہور ہے ہیں۔ایسے وقت میں ہماری دعا ئیں گویا مفت کے اجر کا پیش خیمہ ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا ہے کہ۔ے ہمفت ایں اجر نصرت را دہندت اے اخی ورنہ قضائے آسمان ست ایں بہر حالت شود پیدا ( محررہ 30 جولائی 1955 ء) روزنامہ الفضل 31 جولائی 1955ء) ایک تعزیتی مکتوب حضرت میاں صاحب محترم نے لاہور سے حضرت اماں جی رضی اللہ عنہ کی وفات پر مندرجہ ذیل مکتوب تحریر فرمایا:۔عزیزم مکرم مولوی عبد المنان صاحب عمر السلام عليكم ورحمة الله وبركاته ابھی ابھی یہ اطلاع ملی ہے کہ حضرت اماں جی کا انتقال ہو گیا ہے۔اس خبر سے بے انتہا صدمہ ہوا انا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - پرانے بزرگ آہستہ آہستہ گزرتے جاتے ہیں۔میرے دل میں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی بے حد عزت اور بے حد احترام ہے اور اس وجہ سے حضرت اماں جی سے بھی مجھے بہت محبت اور ان کا خاص احترام تھا اور پھر جس باپ کی وہ بیٹی تھیں۔اس کی وجہ سے بھی خاص اثر تھا۔اللہ تعالیٰ ان کر غریق رحمت کرے اور آپ سب کا حافظ و ناصر ہو۔