مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 288 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 288

مضامین بشیر جلد سوم 288 سینما کے ضرر رساں پہلوؤں کی مختصر تشریح تفریح کے لئے جائز طریقے اختیار کرنے چاہئیں کچھ عرصہ ہوا میں نے سینما کی ممنوعیت کے متعلق دو تین مضامین کے ذریعہ یہ وضاحت کی تھی کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے کس بناء پر اپنی جماعت کو سینما دیکھنے سے روکا ہے اور میں نے ان مضامین میں اس پہلو کی بھی تشریح کر دی تھی کہ بے شک سینما اس زمانہ کی ایک نہایت مفید ایجاد ہے۔جس میں عوام الناس کی علمی ترقی کے بے شمار پہلو پائے جاتے ہیں اور دوسری طرف وہ یقیناً تفریح کا بھی ایک بہت عمدہ ذریعہ ہے جس کی انسانی دماغ کو حقیقی طور پر ضرورت رہتی ہے۔تو پھر کیا وجہ ہے کہ ایسی اچھی اور مفید چیز سے جماعت کو روک دیا گیا ہے؟ لیکن کچھ تو لوگ ایسی باتوں کو جلدی بھول جاتے ہیں اور کچھ مختلف اوقات اور مختلف حالات میں مسائل کے مختلف پہلو بھی اس طرح بدل بدل کر سامنے آتے ہیں کہ سابقہ تشریح گویا پس پردہ جا کر نظروں سے اوجھل ہونی شروع ہو جاتی ہے۔چنانچہ میرے سابقہ مضامین کے باوجود بعض دوستوں نے لفافہ بدل کر وہی سابقہ سوال دُہرایا ہے کہ جبکہ سینما روزمرہ کی مفید ترین ایجا دوں کو پبلک کے سامنے لانے کا بہترین اور مؤثر ترین ذریعہ ہے اور اس میں بہت سے علمی پہلو موجود ہیں اور پھر اس میں تفریح کا بھی نہایت عمدہ سامان موجود ہے۔جس کی آجکل کے ماحول میں خصوصیت سے زیادہ ضرورت ہے۔تو پھر اس سے جماعت کو روکنا کس طرح جائز سمجھا جا سکتا ہے؟ اس کے جواب میں یا درکھنا چاہئے کہ جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے یہ کوئی نیا سوال نہیں ہے بلکہ میرے سابقہ مضامین میں اس سوال کے دونوں پہلو وضاحت کے ساتھ بیان ہو چکے ہیں۔جہاں میں نے سینما کے مفید اور فائدہ بخش پہلوؤں کو تسلیم کرنے کے باوجود یہ بتایا تھا کہ موجودہ زمانہ کی فلموں میں اس قدر گند داخل ہو چکا ہے کہ قرآنی اصول إِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا (البقره: 220) کے ماتحت اس کے نقصان کا پہلو اس کے فائدہ کے پہلو پر بہت زیادہ غالب آ گیا ہے۔میں نے یہ بھی بتایا تھا کہ دراصل سینما اپنی ذات میں بُرا نہیں بلکہ یقیناً ایک بہت مفید ایجاد ہے۔لیکن زندگی کے بیمہ کی طرح (جو وہ بھی اپنی ذات میں بُرا نہیں مگر صرف سود اور جوئے کے عصر کی وجہ سے حرام قرار دیا جاتا ہے) سینما بینی سے صرف اس بناء پر روکا جاتا ہے کہ