مضامین بشیر (جلد 3) — Page 287
مضامین بشیر جلد سوم 287 (الاعراف: 178) حق یہی ہے کہ خواہ انسان جسمانی لحاظ سے گر کر اپنے اعلیٰ انسانی قومی کو کھو بیٹھے یا دینی اور روحانی لحاظ سے گر کر دنیا کا کیڑا بن جائے وہ اَسْفَلَ سَافِلِین کے حکم کے نیچے آ جاتا ہے۔جس سے ہر شخص کو پناہ مانگنی چاہئے۔مجھے ہسپتال کے مختلف حصوں کو دیکھتے ہوئے اس حقیقت کی طرف بھی راہنمائی ہوئی کہ پاگل ہونے کے بعد انسان کے دبے ہوئے جذبات، رجحانات اُبھر کر بالکل عریاں ہو جاتے ہیں اور انسان اپنے جنون میں انہی باتوں کو دہراتا ہے جو صحت کی حالت میں اس کے دل و دماغ پر چھائی ہوئی ہوں۔اس جہت سے یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک معجزہ ہے کہ احمدیوں میں جو بھی پاگل ہوا ہے اس نے لازماً اور بلا استثنیٰ ولی اللہ اور مہم من اللہ ہونے اور مصلح بننے کا دعویٰ کیا ہے اور پاگل ہونے کے بعد اس کی ساری گفتگو کا محور دینی باتیں اور مذہبی مباحث کے اندر محدود ہو جاتی رہی ہے۔یہ اس عظیم الشان روحانی اثر کا نتیجہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے متبعین میں پیدا کیا ہے کہ ان کا شعوری حصہ تو الگ رہا۔ان کے غیر شعوری حصہ میں بھی گویا سراسر دین ہی کی حکومت ہے۔میں نے آج تک کسی احمدی کو نہیں دیکھا جس نے جنون کی حالت میں دینی موضوع کے سوا کسی اور مضمون کو اپنی گفتگو کا محور بنایا ہو۔مجھے اس بات سے بہت خوشی ہوئی کہ پاگل خانہ کے اندر ذمہ دار افسروں نے خوش نما منظر پیدا کرنے اور آنکھوں کو راحت اور ٹھنڈک بخشنے کے لئے بہت اچھا باغ لگایا ہوا ہے۔اس خیال کے آتے ہی میرا خیال اس طرف منتقل ہوا کہ دنیا کی ہر اچھی چیز میں خدائی نظام کی جھلک بلکہ نقل نظر آتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے آخرت کی نعمتوں کو جنت کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔جس کے معنی باغ کے ہیں۔وہ باغ کیسا ہوگا اسے تو صرف خدا ہی جانتا ہے مگر یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ آج تک دنیا کی کسی قوم نے اپنے ماحول کو خوش منظر اور راحت بخش بنانے کے لئے باغ سے بڑھ کر کوئی اور چیز ایجاد نہیں کی۔میں اس وقت بیمار اور کمزور ہوں زیادہ نہیں لکھ سکتا اس لئے اس پر اکتفا کرتا ہوں۔اللہ ہم سب کو روحانی اور جسمانی لحاظ سے اَسْفَلَ سَافِلِينَ میں گرنے سے بچالے اور دین و دنیا میں حافظ و ناصر ہو۔آمین ( محررہ یکم جولائی 1955ء) (روز نامہ الفضل 6 جولائی 1955ء)