مضامین بشیر (جلد 3) — Page 286
مضامین بشیر جلد سوم 286 ہو۔وہ اپنی بات سنائے جاتے ہیں۔بعض نے ناچنا کودنا اپنا شغل بنا رکھا ہے۔بعض اپنے زعم میں مجسٹریٹ اور لیڈر وغیرہ بن کر دوسروں پر حکومت کرنے کے متمنی رہتے ہیں۔بعض شعر گوئی کے دلدادہ ہیں اور خود ساختہ اشعار سے اپنا دل بہلاتے رہتے ہیں۔چنانچہ ایک بوڑھا مریض ایک الٹی کتاب پکڑے ہوئے ہیر رانجھا کے شعر گاتا پھرتا تھا۔بعض جرائم پیشہ قسم کے مریض ہیں جنہیں ان کے خطرناک رجحانات کی وجہ سے علیحدہ علیحدہ سلاخ دار کوٹھڑیوں میں بند رکھا جاتا ہے۔ایک حصہ مادر زاد نگا ر ہنے پر مصر ہے اور اسے بھی الگ کوٹھڑیوں میں بند رکھا جاتا ہے۔بعض پاگلوں میں ہر آنے والے کے ساتھ آگے بڑھ کر مصافحہ کرنے کی آرزو رہتی ہے۔بعض بظاہر تندرست اور اچھی بھلی باتیں کرتے ہیں اور بعض اچھے تعلیم یافتہ ہیں مگر خاص خاص موضوع پر ان کی رگِ جنون پھڑکنے لگ جاتی ہے۔غالبا سب سے زیادہ رحم کے قابل ان مریضوں کی حالت ہے جو مجنون ہونے کے علاوہ ہسپتال میں پہنچ کر دوسری بیماریوں کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔ان کے لئے ہسپتال کا ایک علیحدہ وارڈ معین ہے اور ہسپتال کا عملہ سب حصوں کی پوری دیکھ بھال کرتا۔ان کے علاج کا انتظام کرتا۔ان کے لئے دودھ اور شربت بلکہ حسب ضرورت پھل بھی مہیا کرتا ہے۔مگر ایک قلیل حصہ کو چھوڑ کر ہسپتال کے اکثر مریض اس قسم کی خدمت کی قدر پہچاننے سے بالا اور غنی ہیں۔ہسپتال دیکھتے ہوئے جو خیال مجھے بار بار آتا تھا اور میں نے اپنے ساتھیوں سے اس کا ذکر بھی کیا۔وہ اس قرآنی آیت میں مذکور ہے کہ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ثُمَّ رَدَدْنَهُ أَسْفَلَ سفلينَ (التين : 5-6) یعنی ہم نے انسان کو بہترین قومی اور بہترین ساخت میں پیدا کیا ہے۔لیکن ہم نے اپنی حکمت سے اس کے لئے اس حالت سے نیچے گرنے کا بھی رستہ کھلا رکھا ہے حتی کہ بسا اوقات وہ اپنے اعلیٰ مقام سے گر کر اور ارفع انسانی طاقتوں کو ضائع کر کے ایک اسفل ترین گڑھے میں گر جاتا ہے اور اس حالت میں گویا جانوروں سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔پھر مجھے خیال آیا کہ اس آیت کا اصل موضوع تو دینی اور روحانی ہے۔جیسا کہ بعد کی آیت میں إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں۔اس خیال کے آتے ہی میری روح کانپ گئی کہ گواللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کی غرض یہ بیان فرمائی ہے کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُون (الذاریات : 57) یعنی ہم نے تمام بڑے اور چھوٹے انسانوں کو خدا کا بندہ بن کر رہنے کے لئے پیدا کیا ہے مگر افسوس کتنے ہیں کہ جو اس کا بندہ کہلا سکتے ہیں۔دنیا کا بیشتر حصہ اس وقت یا تو خدا تعالی کا باغی ہے۔یا اس کی طرف سے قطعی طور پر غافل۔بظاہر اسے ماننے والے بھی عقیدت کے لحاظ سے ناوے فیصدی اس کے منکر ہیں۔أُولَئِكَ كَالا نُعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولَئِكَ هُمُ الْغَفِلُونَ