مضامین بشیر (جلد 3) — Page iii
iii بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ پیش لفظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانہ میں ایمان کو ثریا ستارے کی بلندی سے لے کر آنے والے مسیح کے متعلق یہ پیشگوئی فرمائی تھی کہ وہ شادی کریں گے اور ان کے ہاں اولاد ہوگی۔“ 66 (مشکوۃ کتاب الفتن باب نزول عیسی ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس پیشگوئی کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیشگوئی موجود ہے۔“ (ضمیمہ رسالہ انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 337) الغرض آنحضور اللہ کی اس پیشگوئی کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبشر اولاد سے نوازا۔جس نے الہی تقدیر کے مطابق غیر معمولی دینی و علمی کارنامے انجام دینے کی توفیق پائی۔ان با برکت وجودوں میں سے ایک قمر الانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے بھی تھے۔10 دسمبر 1892ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے اس عظیم الشان فرزند کی ولادت کی یہ پیشگوئی فرمائی۔يَأْتِی قَمْرُ الْأَنْبِيَاءِ - وَ أَمْرُكَ يَتَأَثْى - يَسَّرَا اللَّهُ وَجْهَكَ وَ يُنيرُ بُرْهَانَكَ سَيُوْلَدُ لَكَ الْوَلَدُ وَ يُدْنِي مِنْكَ الْفَضْلَ - إِنَّ نُورِی قَریب۔یعنی نبیوں کا چاند آئے گا اور تیرا کام بن جائے گا۔تیرے لئے ایک لڑکا پیدا کیا جائے گا اور فضل تجھ سے نزدیک کیا جائے گا یعنی خدا کے فضل کا موجب ہوگا۔۔۔۔اور میرا نور قریب ہے ( شاید نور سے مراد پسر موعود ہو۔)‘“ تریاق القلوب روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 220) اس پیشگوئی کے پانچ ماہ بعد 20 اپریل 1893ء کو مرالانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی ولادت ہوئی جو طبعا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خاندان کے لئے باعث مسرت اور خدا کے فضل و رحم کا موجب ہوئی۔حضرت میاں صاحب کو اپنی تمام زندگی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقاصد عالیہ پورا کرنے کی توفیق ملی۔بچپن میں ایک دفعہ حضرت میاں صاحب کی آنکھیں خراب ہو گئیں تو حضرت مسیح موعود کو الہام ہوا