مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 271 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 271

مضامین بشیر جلد سوم اعتکاف بیٹھنے والوں کے لئے ضروری ہدایات 271 کل سے انشاء اللہ اعتکاف والا عشرہ شروع ہو جائے گا۔یہ عشرہ رمضان کے مہینہ کا تاج ہے۔اور اس عشرہ کا تاج ہے "لیلۃ القدر پس دوستوں کو تحریک کی جائے کہ اس عشرہ میں خاص طور پر نوافل اور ذکر الہی اور دعاؤں میں مصروف رہیں اور دعاؤں میں درود اور اسلام کی ترقی کی دعاؤں اور جماعتی دعاؤں اور حضرت خلیفہ اسی ایدہ اللہ تعالیٰ کی صحت کی دعاؤں کو مقدم کیا جائے۔نیز جو دوست اس عشرہ میں اعتکاف بیٹھیں انہیں اعتکاف کی ذمہ داری کو اچھی طرح سمجھتے ہوئے اس مبارک عبادت کا پورا پورا احترام ملحوظ رکھنا چاہئے۔دراصل اعتکاف ایک قسم کی وقتی اور جزوی رہبانیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ اعتکاف بیٹھنے والوں سے گویا کامل انقطاع الی اللہ کی توقع رکھتا ہے۔وہ حوائج انسانی یعنی پیشاب پاخانہ کی غرض سے باہر جا سکتے ہیں۔لیکن باقی سارا وقت انہیں مسجد میں رہ کر اور اپنی نیند کو قلیل ترین وقت میں محدود کر کے عبادت اور نوافل اور دعاؤں اور ذکر الہی اور تلاوت قرآن مجید اور دیگر دینی مشاغل میں گزارنا چاہئے۔گویا وہ فرشتوں کی طرح يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ کی پوری تصویر بن جائیں۔بعض گزشتہ سالوں میں دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ جو اعتکاف کی حقیقت کو نہیں سمجھتے اور محض دیکھا دیکھی اعتکاف بیٹھ جاتے ہیں۔اپنے وقت کا کافی حصہ فضول باتوں میں گزارتے ہیں۔یا اپنے ساتھیوں کے ساتھ ادنی ادنی باتوں میں جھگڑتے ہیں۔یہ طریق اعتکاف کی روح کے سراسر خلاف ہے اور ظاہر ہے کہ ایک مُردہ اور بے روح جسم کے ساتھ مسجد میں چند دن گزارنا کسی برکت کا موجب نہیں ہو سکتا۔پس میں امید کرتا ہوں کہ اس سال اعتکاف بیٹھنے والے دوست اعتکاف کی مقدس ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اپنے دنوں کو ذکر الہی اور تلاوت قرآن مجید سے معمور اور اپنی راتوں کو دعاؤں اور نوافل کی لذت سے مسرور رکھنے کی کوشش کریں گے۔اس عشرہ میں ایک رات ایسی آتی ہے جسے لیلۃ القدر کے نام سے پکارا جاتا ہے یعنی عزت والی رات۔یہ رات خاص طور پر دعاؤں کی قبولیت والی رات ہوتی ہے۔جبکہ خدا اپنے رحمت کے فرشتوں کے ساتھ اپنے بندوں کے بہت قریب آجاتا ہے۔میں نے اس کے متعلق الفضل میں ایک نوٹ بھجوایا ہے وہ پڑھ لیا جائے اور جنہیں اس مبارک رات کی گھڑیاں میسر آئیں انہیں چاہئے کہ اس رات کی مخصوص برکتوں سے پورا پورا