مضامین بشیر (جلد 3) — Page 261
مضامین بشیر جلد سوم 261 خفی کے مٹانے کا عزم رکھتی ہے اس لئے ہمیں بھی اس معاملہ میں بہت محتاط رہنا چاہئے اور کوئی ایسا نام نہیں رکھنا چاہئے جس میں شرک کی ملونی پائی جائے۔ہمارے خدا کے نام معلوم و معروف ہیں ( حدیث میں ننانوے معروف نام بیان ہوئے ہیں)۔اس لئے اگر عبد یا امتہ کی صورت میں نام رکھنا ہو تو خدا کے کسی معلوم و معروف نام پر رکھا جائے۔ورنہ کوئی اور ایسا نام رکھ لیا جائے جس میں شرک کی آمیزش نہ ہو۔ذاتی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ امام بخش اور رسول بخش وغیرہ نام بھی درست نہیں۔کیونکہ گوان ناموں کی دوسری تشریح ہو سکتی ہے۔مگر کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم ایک ممنوع رکھ کے قریب گھوم کر اپنے ایمانوں کو خطرہ میں ڈالیں۔ضمناً دوستوں کو یہ بات بھی یادرکھنی چاہئے کہ امتہ کے لفظ میں م کا حرف ساکن نہیں ہے بلکہ متحرک ہے یعنی زبر کے ساتھ ہے مگر صحیح تلفظ نہ جاننے کی وجہ سے اکثر دوست انگریزی میں امتہ کا ہجا غلط لکھتے ہیں مثلاً اگر امتہ المجید لکھنا ہوتو عموماً Amtulmajid لکھ دیا جاتا ہے حالانکہ صحیح بجاAmatul majid ہے جس میں M کے بعد A آتا ہے چونکہ چھوٹی چھوٹی غلطیوں سے بھی علم کا معیار گرتا ہے اور چھوٹی چھوٹی باتوں میں صحت کا خیال رکھنے سے علم ترقی کرتا ہے اس لئے ہمارے بھائیوں اور بہنوں کو اس کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔(محرره 26 اپریل 1955ء) ( روزنامه الفضل 3 مئی 1955ء) مشرکانہ ناموں کے متعلق ایک دوست کے سوال کا جواب چند دن ہوئے الفضل میں میرا ایک نوٹ شائع ہوا تھا کہ امتہ البشیر اور امتہ الرسول وغیرہ مشرکانہ نام ہیں جن سے ہمارے دوستوں کو اجتناب کرنا چاہئے۔اور میں نے اس نوٹ میں یہ بھی لکھا تھا کہ حدیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم مشرکانہ ناموں کو بدل دیا کرتے تھے۔اس پر ایک دوست نے لکھا ہے کہ بعض لوگ غلام رسول اور غلام نبی وغیرہ ناموں پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ مشرکانہ نام ہیں۔مگر یہ اعتراض درست نہیں۔کیونکہ رسول پاک کی طرف غلامی کی نسبت کرنا کسی طرح قابل اعتراض نہیں سمجھا جا سکتا۔بلکہ جائے فخر ہے وغیرہ وغیرہ۔سو اس کے متعلق یا درکھنا چاہئے کہ میں نے غلام رسول یا غلام نبی ناموں پر ہرگز اعتراض نہیں کیا اور کر بھی کیسے سکتا تھا۔جبکہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنا نام غلام احمد تھا۔میرا اعتراض امتہ البشیر اور امتہ الرسول وغیرہ قسم کے ناموں پر تھا۔جو مشرکانہ رنگ رکھتے ہیں اور گو یہ درست ہے