مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 257 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 257

مضامین بشیر جلد سوم 257 حاصل ہوا کرتا ہے۔پس تہجد کی نماز میں یہ عجیب و غریب روحانی تاثیر رکھی گئی ہے کہ وہ انسان کو گویا اس کے معراج تک پہنچا دیتی ہے اور وہ خدا کے فضل سے اپنی ترقی کے آخری نقطہ کو پہنچ جاتا ہے۔پس دوستوں کو رمضان کے مہینہ میں خاص طور پر تہجد اور تراویح کی نماز کی پابندی بھی اختیار کرنی چاہئے بلکہ جن دوستوں کو توفیق ملے اور وہ اس کے لئے وقت اور موقع نکال سکیں۔ان کے لئے یہ بھی مناسب ہے کہ تہجد کے علاوہ رمضان میں ضحی کی نماز بھی ادا کرنے کی کوشش کریں جو گویا دن کی تہجد ہے۔جس طرح رات کی تہجد نیند کی غفلتوں سے بیدار ہو کر ادا کی جاتی ہے۔اس طرح ضحی کی نمازوں کی غفلت پیدا کرنے والی مصروفیتوں سے فراغت نکال کر پڑھی جاتی ہے اور یہ نماز بھی تہجد سے اتر کر ایک نہایت بابرکت نفلی عبادت ہے۔صحی کا وقت ہمارے ملک کے لحاظ سے قریبا نو بجے قبل دو پہر سمجھنا چاہئے۔(3) رمضان کی تیسری خاص عبادت جس پر اسلام میں زور دیا گیا ہے تلاوت قرآن مجید ہے۔یوں تو اسلام میں ہر زمانہ میں ہی تلاوت قرآن کی تلقین کی گئی ہے مگر رمضان کے مہینہ میں اس پر خاص زور دیا گیا ہے۔یہ گویا خدا کی طرف سے مومنوں کو احکام شریعت کی یاددہانی ہے کہ دیکھو ہم نے تمہاری ہدایت کے لئے یہ ایک دائمی مشعل نازل کر رکھی ہے۔اس کی طرف سے غافل نہ ہونا۔پس ضروری ہے کہ رمضان میں قرآن مجید کی تلاوت کا التزام کیا جائے۔بلکہ حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اشارہ فرماتے ہیں کہ جن مسلمانوں کے لئے ممکن ہو وہ رمضان میں قرآن مجید کے دوردور مکمل کیا کریں۔دو میں تکرار کا مفہوم پایا جاتا ہے اور تکرار میں نہ صرف زیادہ برکت ہے بلکہ عابد کی طرف سے گویا تلاوت پر دوام کا اقرار بھی ہوتا ہے۔(4) رمضان کی چوتھی خاص عبادت دعا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوابى (البقرہ: 187) یعنی رمضان کے مہینہ میں میں اپنے بندوں کے بہت قریب ہو جاتا ہوں اور ہر پکارنے والے کی دعا کوسنتا اور اپنی سنت کے مطابق قبول کرتا ہوں مگر شرط یہ ہے کہ وہ مجھ پر سچا ایمان لائے اور میری فرمانبرداری اختیار کرے۔حق یہ ہے کہ رمضان میں خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے اتنا قریب ہو جاتا ہے کہ ہر سچا عاشق گو یا اپنا ہاتھ پھیلا کر اس کا دامن تھام سکتا ہے۔مگر خدا کو دکھا وا پسند نہیں ہے۔کہ زبان پر تو خدا کا نام ہومگر دل میں زمانہ جاہلیت کے خانہ کعبہ کی طرح سینکڑوں بتوں نے جگہ لے رکھی ہو بلکہ ضروری ہے کہ زبان اور دل دونوں خدا کے ذکر سے تر و تازہ رہیں۔یادرکھنا چاہئے کہ ہماری جماعت خشک نیچریوں کی طرح دعا کو محض ایک عبادت نہیں سمجھتی۔بے شک دعا عبادت بھی ہے مگر یقینا وہ حصول مقاصد کا بھی ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔کاش دنیا اس کی حقیقت کو سمجھے۔