مضامین بشیر (جلد 3) — Page 238
مضامین بشیر جلد سوم 238 فہرست مضامین سیرۃ خاتم النبیین کے متعلق ایک ضروری تصحیح الفضل میں میری تیار کردہ فہرست مضامین سیرۃ خاتم النبین حصہ سوم (از 007 تا 11ھ ) شائع ہوئی ہے۔اس میں کا تب کی غلطی سے جہاں جہاں میں نے قارئین کی سہولت کے لئے انگریزی تاریخ درج کی تھی اسے ایک مستقل تاریخ کی صورت میں ہجری کی تاریخ سے علیحدہ کر کے لکھ دیا گیا ہے۔حالانکہ میں نے صرف کہیں کہیں ہجری والی تاریخ کے نیچے تشریح اور سہولت کے خیال سے انگریزی مہینوں کا نام درج کیا تھا جو اس سے اوپر والے اندراج کا حصہ تھا نہ کہ ایک علیحدہ اندراج۔مثلاً رمضان 08ھ کے واقعات کے نوٹ کرنے میں میں نے ایک بریکٹ میں تشریح کے خیال سے جنوری 630ء کا اندراج کیا تھا جو کوئی علیحدہ اندراج نہیں تھا بلکہ رمضان والے اندراج ہی کا حصہ تھا۔مگر کا تب صاحب نے اسے ایک الگ اندراج کی صورت دے کر پیچیدگی پیدا کر دی ہے۔پس دوست اس قسم کے جملہ اندراجات کو جو انگریزی مہینوں کی صورت میں لکھے گئے ہیں کوئی علیحدہ اندراج نہ سمجھیں بلکہ انہیں اوپر والے ہجری کے اندراجوں کا حصہ سمجھیں اور ان کے اردگرد بریکٹ ڈال لیں۔(محرره 21 فروری 1955ء) روزنامه الفضل 23 فروری 1955ء) 60 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جنازہ گاہ اور پہلی بیعت خلافت کا مقام کچھ عرصہ ہوا میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نماز جنازہ اور پہلی بیعت خلافت کے مقام کے متعلق مناسب تحقیق اور حاضر الوقت احباب کی شہادت کے ساتھ جن میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی اور حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی اور مکرم محمد المعیل صاحب معتبر اور خاکسار مرزا بشیر احمد اور بعض دیگر اصحاب بلکہ خود حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی شہادت بھی شامل تھی۔ایک مختصر سا نوٹ الفضل مورخہ 4 فروری 1953 میں شائع کرایا تھا۔اور اس نوٹ میں اس بات کی وضاحت کی تھی کہ گو جنازہ گاہ کے متعلق سب دوستوں کا اتفاق ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام