مضامین بشیر (جلد 3) — Page 3
1 مضامین بشیر جلد سوم 30 اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ میں ایک مومن کیلئے پیغام ہے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا پیغام ہندوستان کے احمدی احباب کے نام بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلى رَسُولِهِ الْكَرِيم وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحَ الْمَوْعُوْدِ برادران قادیان! خواہ آپ قادیان میں رہائش رکھتے ہیں یا کہ باہر سے آئے ہوئے مہمان ہیں۔السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ اس وقت اعصابی تکلیف کی وجہ سے میں کوئی لمبا پیغام نہیں لکھ سکتا۔مگر اس مقدس اجتماع کے موقع پر جو قادیان کے موجودہ دور کا غالبا چوتھا اجتماع ہے آپ صاحبان کی خدمت میں اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةٌ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ کا ہدیہ ارسال کرتا ہوں اور دراصل اس مختصر ہدیہ میں ہی ایک مومن کا سارا پیغام آ جاتا ہے اس مبارک تحیہ میں جو مسلمانوں کے لئے ایک دوسرے کو پیش کرنے کے واسطے مقرر کیا گیا ہے، تین دعائیہ الفاظ ر کھے گئے ہیں یعنی سلام اور رحمت اور برکات۔سلام کے لفظ میں تمام ان ارضی اور سماوی آفات سے حفاظت کی دعا ہے۔جو ایک انسان کو دنیا اور آخرت کے سفر میں پیش آسکتی ہیں۔اور رحمت کے لفظ میں اللہ تعالیٰ کے ان انعاموں کی طلب ہے جو عفو اور بخشش اور اکرام کے رنگ میں خدا کی طرف سے بندوں پر نازل کئے جاتے ہیں۔اور برکات کے لفظ میں ان انوار کی طرف اشارہ ہے جو لوگوں کی بظاہر نا چیز اور حقیر مساعی کو ایک بیج کی طرح ترقی دے کر اولاً ایک درخت اور پھر ایک وسیع اور شاداب باغ یعنی جنت کی صورت دے دیتے ہیں۔پس اے میرے عزیز و اور بھائیو اور بزرگو! آپ سب کو میری طرف سے سلام اور رحمت اور برکات کا تحیہ پہنچے کہ یہی ہم سب کی زندگیوں کا مقصد و منتہی ہے۔ہم اس وقت بظاہر ایک دوسرے سے جدا ہیں۔لیکن اصل اتحاد روح کا ہوتا ہے نہ کہ جسم کا۔اور جب ہماری روحیں ایک دوسرے سے متحد ہیں تو جسموں کی ظاہر ادوری کوئی حقیقت نہیں رکھتی بلکہ روحوں کے مزید قرب کی بنیاد بنتی ہے۔پس اس عارضی اور ظاہری دُوری سے دیگیر مت ہو کہ خدا کی نظر میں اصل چیز کام ہے نہ کہ مقام۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر آپ لوگ اس کام کی طرف پوری پوری توجہ دیں