مضامین بشیر (جلد 3) — Page 224
مضامین بشیر جلد سوم 224 اس کے سوا کیا عرض کیا جائے کہ سوال کرنے والے دوست کے دل ودماغ پر غالبا ڈا کٹر سر محمد اقبال کا شکوہ" حاوی نظر آتا ہے۔خصوصاً شکوہ کا وہ حصہ جہاں علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ ؎ امتیں اور بھی ہیں ان میں گنہگار بھی ہیں عجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیں ان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہوشیار بھی ہیں سینکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بیزار بھی ہیں رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پر برق گرتی تو ہے بیچارے مسلمانوں پر شکایت نہیں، ہیں ان کے خزانے معمور نہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعور قہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصور اور بیچارے مسلماں کو فقط وعدہ حور مگر علامہ اقبال نے تو جمہور مسلمانوں میں ان شعروں کا رد عمل دیکھ کر اور خصوصاً مولوی صاحبان کا شور وغوغا سن کر ” جواب شکوہ میں پناہ لے لی تھی لیکن ہمارے سوال کرنے والے دوست ابھی تک ” حور وقصور ہی کے چنگل میں پھنسے ہوئے نظر آتے ہیں۔بہر حال اس سوال کے بظاہر دوامکانی پہلو ہو سکتے ہیں۔اگر تو سوال کرنے والے دوست کا یہ منشاء ہے کہ آج کل مسلمان سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے گر چکے ہیں اور دنیا کی بہت سی نعمتوں سے محروم ہیں تو یہ درست ہے۔لیکن اس کا علاج مایوسی یا گلہ شکوہ نہیں بلکہ اپنی حالت کی اصلاح کرنا اصل علاج ہے۔مسلمان اپنی اخلاقی اور دینی اور اقتصادی حالت سنوار لیں تو یقیناً پھر پہلے کی طرح سب نعمتیں ان کے قدم چومنے لگیں گی اور ہمارے آقا صلے اللہ علیہ وسلم نے یہ پیشگوئی بھی فرمائی ہوئی ہے کہ ایک درمیانی تنزل اور انحطاط کے دور کے بعد اسلام کو پھر آخری زمانہ میں دوبارہ طاقت اور قوت اور شوکت حاصل ہوگی اور خدا کے فضل سے اس کے آثار بھی شروع ہیں جس کی آنکھیں ہوں دیکھے۔لیکن اگر سوال کرنے والے دوست کا اشارہ اس طرف ہے کہ مسلمانوں کو اسی قسم کے زہد کی تعلیم دی گئی ہے کہ وہ تمول کے سامان موجود ہونے کے باوجود عیش و عشرت میں زیادہ مستغرق نہ ہوں تو اس پر کوئی عقل مند انسان اعتراض نہیں کر سکتا۔خدائے علیم وحکیم نے انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا ہے، حیوان نہیں