مضامین بشیر (جلد 3) — Page 223
مضامین بشیر جلد سوم 223 حوض تعمیر کیا اور اس میں ایک طرف سے نہایت پاک وصاف پانی ڈالنے کا انتظام بھی کیا۔مگر دوسری طرف سے اس کے اندر نجاست کا انبار بھی ڈالتا گیا۔کیا ایسے حوض کا پانی پاک وصاف رہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔بس یہی حال اس نماز پڑھنے والے کا ہے جو نماز تو بظاہر نیک نیتی کے ساتھ ہی پڑھتا ہے مگر اپنے نفس کی ٹینکی میں نماز کے طاہر و مطہر پانی کے ساتھ ساتھ گندگی کے ڈھیر بھی ڈالتا جاتا ہے۔اس صورت میں ایسے شخص کی نماز سے ہرگز طہارت نفس کے اس ارفع مقام پر نہیں لے جاسکتی جو اقامةِ الصَّلوة کے لئے مقدر ہے۔باقی رہا یہ سوال کہ بعض غیر نمازی بھی اچھے اخلاق کی حالت میں دیکھے جاتے ہیں۔سو اس سے بھی ہمیں انکار نہیں کہ انسان کسی حد تک نماز کے بغیر بھی بعض اچھے اخلاق پیدا کر سکتا ہے۔مگر سوال تو درجہ کا ہے اور کوئی شخص ہرگز یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ ایک کامل طور پر پابند صلوۃ انسان کے مقابلہ پر ایک غیر نمازی انسان کے اخلاق درجہ کے لحاظ سے بہتر یا برابر ہو سکتے ہیں۔اخلاق کا فلسفہ بڑا گہرا اور بڑا وسیع ہے۔اور اخلاق کی درستی میں بیسیوں باتیں اثر انداز ہوتی ہیں۔اور ہر اچھی بات کسی نہ کسی حد تک اخلاق پر اچھا اثر پیدا کرتی ہے۔مگر ان باتوں میں سب سے زیادہ پختہ اور سب سے زیادہ وسیع الاثر چیز نماز ہے۔کیونکہ وہ انسان کو خدا سے ملاتی ہے اور ظاہر ہے کہ اخلاق کا بہترین اور پاکیزہ ترین منبع خدا کی ذات ہے۔اسی لئے یہ فرمایا گیا ہے که تَخَلَّقُوا باخلاق الله یعنی اگر اخلاق کو اعلیٰ بنانا ہوتو اپنے اخلاق کو خدا کے اخلاق کے نمونہ پر ڈھالنے کی کوشش کرو۔پس جہاں مجھے اس بات سے انکار نہیں کہ بعض دوسری باتیں بھی ( مثلاً اچھی صحبت، اچھی تربیت۔اچھی تعلیم۔دوسروں کے ساتھ واسطہ پڑنے کا اچھا تجربہ وغیرہ) ایک حد تک اخلاق کی درستی میں مد ہوتی ہیں وہاں یہ بات بھی قطعی طور پر یقینی ہے کہ ان سب باتوں میں گلِ سرسبد وہ نماز ہے جو اپنے جملہ شرائط کے ساتھ ادا کی جائے۔ہاں ہاں وہی نماز جو ایک گری پڑی چیز نہ ہو بلکہ اِقامَةِ الصَّلوة کے مفہوم کے مطابق گویا چوکس اور ایستادہ کھڑی ہو اور اسے ادا کرتے ہوئے انسان پختہ یقین کے ساتھ محسوس کرے کہ میں خدا کو دیکھ رہا ہوں اور خدا مجھے دیکھ رہا ہے۔مسلمانوں کی زبوں حالی اس دوست کا تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ مومن کی زندگی ذلیل ترین نظر آتی ہے۔نہ وہ اچھا کھانا کھاتا ہے۔نہ اچھا لباس پہنتا ہے۔دنیوی لحاظ سے اس کی کوئی عزت نہیں وغیرہ وغیرہ۔اس کے جواب میں