مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 217 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 217

مضامین بشیر جلد سوم این نشان قوت مردانه است کاملان را بس ہمیں پیمانہ است (محرره 12 جنوری 1955ء) 217 روزنامه الفضل 15 جنوری 1955ء) ایک دوست کے تین سوالوں کا جواب دعاؤں کی قبولیت۔نماز کی برکات اور مسلمانوں کی زبوں حالی پتو کی ضلع لاہور ( حال قصور۔ناقل ) کے ایک دوست جن کا نام ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں اپنے ایک خط محررہ 18 جنوری 1955ء میں بعض مسائل کے متعلق اپنی پریشانی اور دماغی الجھن کا اظہار کر کے دعا کے علاوہ ایسے کافی وشافی جواب کے متمنی ہیں جو ان کے دل کی تسکین کا موجب ہو۔سو دل کا اطمینان تو خدا کے ہاتھ میں ہے۔جیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے الا بذكر اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد: 29) اور کافی جواب کے لئے زیادہ وقت اور بہتر صحت درکار ہے جو مجھے آجکل میسر نہیں۔اس لئے ذیل کے مختصر اور اپنے خیال میں کسی قدر شافی جواب پر اکتفا کرتا ہوں اور دعا بھی کرتا ہوں کہ اللہ تعالے اس دوست کی پریشانی اور دماغی الجھن کو دور کر کے اطمینانِ قلب عطا کرے اور مجھے بھی اپنے فضلوں اور رحمتوں سے نوازے اور انجام بخیر ہو۔دعاؤں کی قبولیت سب سے پہلا سوال اس دوست کا یہ ہے کہ میں اپنے ایک معاملہ میں دعا کرتے کرتے تھک گیا ہوں اور میں نے جماعت کے بزرگوں سے بھی دعا کرائی ہے مگر میرا مقصد حاصل نہیں ہوا اور کوئی دعا قبولیت کو نہیں پہنچی۔حتی کہ اب میرے دل میں یہ شبہات پیدا ہونے شروع ہو گئے ہیں کہ شاید دعائیں قبول ہی نہیں ہوا کرتیں۔بلکہ ” وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے۔اس سوال کا صاف اور سیدھا اور مختصر جواب تو یہ ہے کہ آج تک کسی شخص نے یہ دعوی نہیں کیا کہ ہر مومن کی ہر دعا لازما قبول ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکثر فرمایا کرتے تھے اور کئی جگہ لکھا بھی ہے کہ دعا کے معاملہ میں خدا کا سلوک اپنے بندوں کے ساتھ دوستانہ رنگ کا ہوا کرتا ہے کہ کبھی وہ اپنی بات منواتا ہے اور کبھی ان کی مانتا ہے۔تو جب قبولیت دعا کے مسئلہ کے متعلق