مضامین بشیر (جلد 3) — Page 216
مضامین بشیر جلد سوم کے نو جوانوں پر خراب اثر پڑنا یقینی ہے۔216 دوسرا سوال مجذوب کی تشریح سے تعلق رکھتا ہے۔سوال کرنے والے دوست پوچھتے ہیں کہ مجذوب کون ہوتا ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ کیا ایسا شخص مجذوب کہلا سکتا ہے جو شریعت اسلامی سے لاتعلق، جسمانی پاکیزگی اور لباس سے بے نیاز اور عقل سے عاری ہو؟ ایسے شخص کا روحانیت سے کیا تعلق ہوسکتا ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ مجذوب ایک عربی لفظ ہے جو جذب سے نکلا ہے۔جس کے معنے کھینچنے کے ہیں اور مجذوب کے اصطلاحی معنے ایسے انسان کے ہیں جو خدا کی طرف کھینچا گیا ہو۔پس حقیقتا یہ ایک بہت پاکیزہ مقام ہے مگر افسوس ہے کہ اس زمانہ میں پست خیال اور روحانیت سے دور پڑے ہوئے لوگوں نے مجذوب سے ایسا شخص مراد لینا شروع کر دیا ہے جو مخبوط الحواس اور نیم پاگل ہو اور اسے طہارت اور پاکیزگی کا بھی کوئی احساس نہ ہو۔یہ نظریہ اسلام کی تعلیم کے سراسر خلاف ہے۔البتہ ظاہری پاکیزگی اور زینت میں ایسا انہاک ہونا بھی پسندیدہ نہیں جو آجکل کے فیشن ایبل (Fashionable) طبقہ میں عموماً پایا جاتا ہے۔جو ہر وقت اپنے جسم کی زینت اور اپنے لباس کی ٹیپ ٹاپ میں ہی غرق رہتے ہیں۔اسلام نے ہرامر میں اعتدال اور میانہ روی کے طریق کو پسند فرمایا ہے بلکہ قرآن نے تو میانہ روی اور اعتدال پر اتناز ور دیا ہے کہ مسلمانوں کا نام ہی اُمَّةً وسَطًا (البقره: 144) رکھ دیا ہے۔الغرض مجذوب کے بچے اور حقیقی معنے صرف اس قدر ہیں کہ انسان دنیا کی لذات کی طرف سے ایک گونہ بے رغبتی پیدا کر کے خدا کی طرف کھینچا جائے۔گویا یہ ایک قسم کی جائز اور محدود رہبانیت ہے۔اور یہ وہی مقام ہے جس کے متعلق بزرگوں نے فرمایا ہے کہ ”دل بایار و دست با کار اس کے ماسوا ہر دوسری نام نہاد مجذوبیت یا تو جنون کی قسم میں داخل ہے اور یاوہ ایک غیر اسلامی مجذوبیت ہے جسے اسلامی تمدن میں کوئی مقام حاصل نہیں۔اور گندہ اور ناصاف رہنا تو قطعی طور پر اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔قرآن مجید زور دار الفاظ میں فرماتا ہے کہ وَثِبَابَكَ فَطَهِّرُ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ (المدثر :5-6) یعنی اے مسلمانو! اپنے لباس کو پاک وصاف رکھو اور ہر قسم کی گندگیوں اور نا پاکیوں سے دور رہو۔مجذوبیت کی حقیقی تشریح میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے یہ شعر بھی کتنے پیارے ہیں۔با کامل آن باشد که با فرزند و زن عیال جمله مشغولی تن و با تجارت با بع , شرا یک زمان غافل نه گردد از خدا