مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 214 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 214

مضامین بشیر جلد سوم ایک دوست کے دوسوالوں کا جواب گانے بجانے کا سوال اور مجز وبیت کی تشریح 214 جھنگ مگھیا نہ کے ایک دوست نے ایک خط کے ذریعہ مجھے دوسوال لکھ کر بھیجے ہیں۔ایک سوال گانے بجانے کے متعلق ہے اور دوسرا سوال مجذوب کی تشریح سے تعلق رکھتا ہے۔یہ دوست اپنے خط میں تقاضا کرتے ہیں کہ ان سوالوں کا جواب اخبار کے ذریعہ دیا جائے۔میری طبیعت چونکہ آجکل صاف نہیں بلکہ چند دن سے پھر دل پر کچھ بو جھ سا محسوس ہوتا ہے۔اس لئے میں نے انہیں خط کے ذریعہ مختصر سا جواب بھجوا دیا تھا اور اخباری مضمون سے معذرت کر دی تھی۔لیکن بعد میں مجھے خیال آیا کہ اگر یہی مختصر سا جواب معمولی لفظی اضافہ کے ساتھ اخبار میں بھی چھپ جائے تو کوئی ہرج نہیں۔اس سے سوال کرنے والے دوست کی خواہش بھی پوری ہو جائے گی اور باوجود نہایت درجہ اختصار کے دوسرے دوستوں کو بھی کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچ جائے گا۔پہلا سوال اس دوست کا یہ ہے کہ گانے بجانے کے متعلق ایک طرف تو اسلام کا یہ نظریہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ ایک شیطانی فعل ہے اور دوسری طرف یہ بھی ایک مسلم حقیقت ہے کہ اسلام کے بہت سے صوفیائے کرام اور بزرگانِ سلف نے گانے بجانے کو پسند فرمایا ہے۔بلکہ بعض نے تو گویا اسے ایک طرح سے عبادت میں ہی شامل کر دیا ہے۔ہمارے یہ دوست لکھتے ہیں کہ یہ ایک بھاری تضاد ہے جس کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔سواس سوال کے جواب میں یاد رکھنا چاہئے کہ مطلقا خوش الحانی سے گانا یا خوشی کے مواقع پر حسب حالات بعض جائز قسم کے آلات موسیقی استعمال کرنا اپنی ذات میں حرام نہیں ہے۔بلکہ گانے بجانے کو صرف بعض ناجائز باتوں کی آمیزش کی وجہ سے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔مثلاً ان ناجائز باتوں میں سے ایک بات یہ ہے کہ گائے جانے والے شعر نخش اور گندے اور شہوانی قوی کو انگیخت دینے والے ہوں یا خلاف شریعت اور خلاف اخلاق ہوں ممنوعیت کی یہ وجہ ایک ایسی بدیہی بات ہے جس کے لئے کسی خارجی دلیل کی ضرورت نہیں۔اور نہ ہی کوئی دانا شخص اس میں اختلاف کر سکتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ گانے بجانے میں ایسے آلات استعمال کئے جائیں جن کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے مثلاً تاروں کے ساتھ بجنے والے آلات ، حدیث میں منع آئے ہیں۔کیونکہ ان میں خاص قسم کے شکر اور استغراق کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جس میں انسان کے لطیف قومی اور ٹھوس کام کرنے کی طاقتوں کو صدمہ پہنچتا ہے اور دراصل یہی وہ آلات ہیں جن کو حدیث میں شیطانی آلات قرار دیا گیا ہے۔