مضامین بشیر (جلد 3) — Page 213
مضامین بشیر جلد سوم 213 1 الفضل کا دور جدید الْحَمْدُ لِلَّهِ ثُمَّ الْحَمْدُ لِلَّهِ کہ ایک لیے وقفہ کے بعد الفضل پھر مرکز سلسلہ سے نکلنا شروع ہو گیا ہے۔غالباً تینتالیس 43 سال کا عرصہ گزرا کہ سلسلہ حمدیہ کے مرکز قادیان سے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ سے الفضل کا اجراء ہوا۔یہ حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ کا زمانہ تھا۔اس کے بعد ہمارا یہ مرکزی اخبار خدا کے فضل سے مسلسل ترقی کرتا گیا۔حتی کہ ملکی تقسیم کے دھکے کے نتیجے میں الفضل کو بھی جماعت کی اکثریت کے ساتھ قادیان سے نکلنا پڑا۔جس کے بعد حالات کی مجبوری کے ماتحت وہ لاہور سے شائع ہوتا رہا۔یہ گویا اس کے لئے برزخ کا زمانہ تھا۔اب سات سال کے درمیانی زمانہ کے بعد الفضل پھر ربوہ یعنی مرکز سلسلہ نمبر 2 سے نکلنا شروع ہوا ہے۔الفضل کے اس نئے دور میں تمام جماعت کی دعائیں اس کے ساتھ ہیں۔اور ہر مخلص احمدی کے دل سے یہ صدا اٹھ رہی ہے کہ مرکز سلسلہ کا یہ پودا جو گو یا اب اپنے بلوغ کو پہنچ رہا ہے بیش از پیش سرعت کے ساتھ بڑھے اور پھیلے اور پھولے۔اور اس کے پھلوں سے لوگ زیادہ سے زیادہ مستفیض ہوں۔مگر اس تبدیلی کے نتیجہ میں جہاں جماعت کی یہ ذمہ داری بڑھ گئی ہے کہ وہ اپنے اس مرکزی اخبار کی اشاعت کی توسیع میں پہلے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لے اور مرکز کی ان صحافتی تاروں کو اور بھی زیادہ وسیع اور مضبوط کر دے۔جو اسے افراد جماعت کے ساتھ باندھ رہی ہیں۔وہاں الفضل کے عملہ کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ نہ صرف الفضل کو زیادہ سے زیادہ مفید اور دلکش بنائے بلکہ لاہور سے ربوہ کی طرف منتقل ہونے کے نتیجہ میں جو بعض مادی وسائل ترقی میں امکانی کمی آسکتی ہے اسے بیش از پیش توجہ اور کوشش کے ذریعہ کم نہ ہونے دے۔اس زمانہ میں پریس کی اہمیت اور اس کے اثر کی وسعت ظاہر وعیاں ہے۔سواب یہ جماعت اور عملہ الفضل کا مشترکہ فرض ہے کہ وہ الفضل کو ہر جہت سے ترقی دے کر اسے ایک الہی جماعت کے شایانِ شان بناۓ۔وَ كَانَ اللَّهُ مَعَنَا أَجْمَعِينَ۔( محرره 31 دسمبر 1954 ء ) ( روزنامه الفضل یکم جنوری 1955ء)