مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 207 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 207

مضامین بشیر جلد سوم 207 آ رہا ہے اس طرف احرارہ یورپ کا مزاج نبض پھر چلنے لگی مُردوں کی ناگہ زندہ وار کہتے ہیں تثلیث کو اب اہلِ دانش الوداع پھر ہوئے ہیں چشمه توحید پر از جاں نثار باغ میں ملت کے ہے کوئی گل رعنا کھلا آئی ہے بادِ صبا گلزار سے مستانہ وار آ رہی ہے اب تو خوشبو میرے یوسف کی مجھے گو کہو کہو دیوانہ میں کرتا ہوں اس کا انتظار (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 131) اس کے بعد اسلام اور احمدیت کی آئندہ ترقی کے متعلق فرماتے ہیں۔دیکھو وہ زمانہ چلا آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ خدا اس سلسلہ کی دنیا میں بڑی قبولیت پھیلائے گا اور یہ سلسلہ مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب میں پھیلے گا۔اور دنیا میں اسلام سے مراد یہی سلسلہ ہوگا یہ باتیں انسان کی نہیں یہ اس خدا کی وحی ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔پھر فرماتے ہیں۔تحفہ گولڑو یہ روحانی خزائن جلد 17 تحفہ گولڑو یہ صفحہ 182) اے تمام لوگو! سن رکھو کہ یہ اس کی پیشگوئی ہے۔جس نے زمین و آسمان بنایا۔وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا۔اور حجت اور برہان کے رو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔۔۔۔یاد رکھو کہ کوئی آسمان سے نہیں اترے گا۔ہمارے سب مخالف جو اب زندہ موجود ہیں وہ تمام مریں گے۔اور کوئی ان میں سے عیسیٰ بن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا۔اور پھر ان کی اولاد جو باقی رہے گی۔وہ بھی مرے گی اور ان میں سے بھی کوئی آدمی عیسی بن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا۔اور پھر اولاد کی اولا د مرے گی۔اور وہ بھی مریم کے بیٹے کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گی۔تب خدا ان کے دلوں میں گھبراہٹ ڈالے گا کہ زمانہ صلیب کے غلبہ کا بھی گزر گیا۔اور دنیا دوسرے رنگ میں آگئی مگر مریم کا بیٹا عیسی ابھی تک آسمان سے نہ اترا۔تب سب دانشمند یک دفعہ اس عقیدہ سے بیزار ہو جائیں گے۔اور ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری یوسف سے اس جگہ اسلام کی ترقی مراد ہے۔جو اس وقت گویا امت محمدیہ کا ایک کھویا ہوا متاع ہے۔