مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 205 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 205

مضامین بشیر جلد سوم 205 دل لبھاتا ہے مگر دشمن اس پر دانت پیستے ہیں۔اس لطیف قرآنی آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دونوں بعثوں کا عجیب و غریب نقشہ کھینچا گیا ہے۔پہلی بعثت جو خود آپ کی ذات والا صفات کے ذریعہ ہوئی۔وہ صاحب تو رات کی طرح جلالی بعثت تھی جبکہ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّار والا نظارہ پیش کیا گیا۔اور مسلمانوں کی جہادی یلغار نے کافروں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا۔اور ہمارے آقا (فدا نفسی) کے نام لیواد یکھتے دیکھتے دنیا پر چھا گئے۔اس کے مقابل پر دوسری بعثت جو آخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کے قرآنی وعدہ کے مطابق آپ کے ایک بروز کے ذریعہ آخری زمانہ میں مقدر تھی۔وہ جمالی بعثت تھی جو صاحب انجیل کی طرح جمال کے رنگ میں ایک آہستہ آہستہ بڑھنے والی کونپل کی طرح ظاہر ہوئی۔اس کو نیل اور اس کی دھیمی دھیمی مگر یقینی ترقی کو دیکھ کر خدائی کا شتکار تو خوش ہیں۔مگر منکرین اس پر دانت پیس رہے ہیں کہ کہیں یہ چھوٹی سی کو نیل بعد میں ایک مضبوط درخت بن کر ہم پر نہ چھا جائے۔اور ضمناً یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ یہ نیچر کا ایک عام قانون ہے کہ جو چیز آہستہ آہستہ بڑھتی ہے وہ عمر بھی لمبی پاتی ہے۔پس اسلام کی ترقی کا دوسرا دور بھی خدا کے فضل سے بہت لمبا بلکہ دائمی ہوگا۔خلاصہ کلام یہ کہ جہاں جلالی سلسلوں کے متعلق خدا کی یہ سنت ہے کہ وہ چمکتے اور گر جتے ہوئے آتے ہیں اور دیکھتے دیکھتے ساری فضا پر چھا جاتے ہیں۔جیسا کہ حضرت موسی اور ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت میں ہوا۔وہاں جمالی سلسلوں کے متعلق خدا کی سنت یہ ہے کہ وہ بہت آہستہ آہستہ بڑھتے ہیں اور کافی وقت لے کر اپنے کمال کو پہنچتے ہیں۔جیسا کہ حضرت مسیح ناصرٹی کے سلسلہ میں ہوا۔یا جیسا کہ اب احمدیت میں ہو رہا ہے۔پس آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کی برق رفتار ترقی پر حضرت مسیح موعود بانی احمدیت اور آپ کی جماعت کا قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے۔کیونکہ دونوں کا طریق اور مسلک جدا جدا ہے۔البتہ احمدیت کے متعلق مسیحیت کی رفتار ترقی سے ضرور قیاس کیا جا سکتا ہے۔کیونکہ یہ دونوں سلسلے جمالی ہیں۔جن کے لئے الہی سنت کے مطابق آہستہ آہستہ ترقی مقدر تھی۔چنانچہ دیکھ لو کہ مسیحیت شروع شروع میں تین سو سال تک کن جانگداز امتحانوں اور خطرناک ابتلاؤں میں سے گزری حتی کہ ابتدائی صدیوں میں حضرت مسیح ناصری کے ماننے والوں کو تاریک و تار غاروں میں چھپ چھپ کر اور ہزاروں قسم کے مظالم کا نشانہ بن کر وقت گزارنا پڑا۔لیکن جب یہی کمزوری کو نپل بڑھنے پر آئی اور مسیحیت کی ترقی کا زمانہ آیا تو آج یہی قوم جس کے بزرگ دوسرے لوگوں کے پاؤں تلے روندے جاتے تھے۔ہفت اقلیم کی بادشاہ اور دنیا بھر کی لیڈر بنی بیٹھی ہے۔کیا یہ ترقی مسیح ناصری کے وقت میں یا ان کی قوم کے ابتدائی تین سو سالوں میں کسی