مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 195 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 195

مضامین بشیر جلد سوم 195 تک ہر کہ ومہ کی ٹھوکریں کھا رہی ہے۔اور اس کا غلبہ تو الگ رہا اس کی زندگی تک مخدوش نظر آتی ہے۔اس قسم کی دماغی تشویش اور شک وشبہ کی حالت کو دور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس اہم سوال کے متعلق کسی قدر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی جائے۔تا بعض خام طبیعت کے نوجوان جو اپنے فطری میلان کے لحاظ سے مایوسی کی طرف جلدی جھکنے لگتے ہیں وہ ایمان کے نور سے منور ہو کر اپنی ہمتوں کو بلند کر سکیں۔اور ان کے دلوں میں یہ یقین راسخ ہو جائے کہ خواہ کچھ ہو آخری فتح بہر حال اسلام اور احمدیت کی ہے۔اور مادیت اور دجالیت کے سارے طلسم اور سرمایہ داری اور اشتراکیت کی ساری طاقتیں بالآخر اسلام اور احمدیت کے مقابل پر اس طرح اڑ کر ختم ہو جائیں گی جس طرح ایک تیز آندھی کے سامنے رستوں کاخس و خاشاک ادھر ادھراڑ کر غائب ہو جایا کرتا ہے۔فَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنتُمْ مُومِنِيْنَ - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ان خطرات کے متعلق انتباہ اس تعلق میں سب سے پہلی بات تو یہ یا درکھنی چاہئے کہ اسلام اور احمدیت نے جو پیشگوئیاں اپنی آخری فتح کے متعلق بیان کی ہیں وہ نعوذ باللہ جہالت کی پیشگوئیاں نہیں ہیں جو مخالف طاقتوں کی طرف سے آنکھیں بند کر کے یونہی خوش عقیدگی کے رنگ میں بیان کر دی گئی ہوں۔بلکہ یہ پیشگوئیاں تمام مخالف طاقتوں کا پوری طرح اندازہ کرنے اور مقابل کے خطرات کا پورا پوراعلم رکھنے اور ان کا صحیح صحیح جائزہ لینے کے بعد بیان کی گئی ہیں۔پس ان پیشگوئیوں کو کوئی شخص اپنی نادانی کی بناء پر وقت سے پہلے غلط قرار دے تو دے۔مگر انہیں ایک مجذوب کی بڑیا اندھے کا نعرہ نہیں قرار دیا جا سکتا کیونکہ قرآن و حدیث اور احمدیت کا لٹریچر ان مہیب خطرات اور مشکلات کے ذکر سے بھرے پڑے ہیں۔جو آخری زمانہ میں صداقت کی فتح اور غلبہ سے قبل پیش آنے مقدر ہیں۔اور اس قبل از وقت ذکر میں دُہری غرض مد نظر ہے۔ایک غرض تو یہ ہے کہ تا مومنوں کی جماعت اپنے مقابل کے خطرات سے پوری طرح آگاہ ہو کہ جہاں تک اس کے وسائل اور اس کی طاقت کے لحاظ سے ممکن ہو۔ان کے مقابلہ کے لئے تیاری کر سکے اور انگریزی محاورہ ”فور وارنڈ فور آرڈ Fore warned Fore armed کے مطابق سست اور کاہل نہ ہونے پائے۔دوسرے یہ کہ تا دنیا کے لئے خدا کی طرف سے یہ ایک نشان ہو کہ ہمارے بھیجے ہوئے مرسلوں نے اپنی انتہائی کمزوری اور بے بضاعتی کے باوجود پہلے سے اعلان شدہ پیشگوئی کے مطابق اپنے مقابل کی عظیم الشان طاقتوں پر غلبہ پالیا۔اور ایک پڑی نے ایک دیو کو پچھاڑ کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس ”پری“ کے پیچھے ایک ایسی زبردست ہستی کا