مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 182 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 182

مضامین بشیر جلد سوم 182 مگر اس قسم کے حالات کا سب سے بڑا نقصان اخلاقی اور دینی میدان سے تعلق رکھتا ہے۔کیونکہ ان حالات میں بعض غریب افراد جو خدائی نظام کی حقیقت اور انسانی جد و جہد کے گہرے فلسفہ کو نہیں سمجھتے۔وہ ایک طرف نعوذ باللہ خدا کے متعلق اور دوسری طرف سوسائٹی کے خوشحال طبقہ کے متعلق ناشکری کے جذبات میں مبتلا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔اور خیال کرتے ہیں کہ خدا نے ایک طبقہ کو اتنا امیر بنا کر کہ اسے اپنی دولت کو سنبھالنا مشکل ہے اور دوسرے طبقہ کو اتنا غریب بنا کر کہ وہ اپنا پیٹ پالنے اور اپنا تن ڈھانکنے تک سے بھی معذور ہے دنیا میں یہ کیا نظام قائم کیا ہے۔اور پھر ان لوگوں میں سے ایک حصہ جو زیادہ غور وفکر کی طاقت نہیں رکھتا۔اس زمانہ کے سب سے بڑے فتنہ یعنی اشتراکیت اور کمیونزم کی طرف جھک جاتا ہے۔جہاں اسے بظاہر پیٹ پالنے اور تن ڈھانکنے اور سر چھپانے کی عام دعوت ملتی ہے۔حالانکہ اگر دنیا میں صحیح طریق پر اسلامی نظام قائم کیا جائے اور دولت کو مناسب طریق پر سمونے کی اُس مشینری کو بروئے کار لایا جائے جو اسلام نے قائم کی ہے۔تو ایک طرف انفرادی جائیداد پیدا کرنے اور انفرادی جد و جہد کا پھل کھانے کا رستہ بھی کھلا رہتا ہے۔اور دوسری طرف زکوۃ اور صدقات اور تقسیم ورثہ اور بندش سود وغیرہ کے ذریعہ ملکی دولت چند ہاتھوں میں جمع ہونے سے بھی رکی رہتی ہے۔اور امیروں کی دولت کا ایک حصہ لازماً کٹ کٹ کر غریبوں کو پہنچتارہتا ہے۔یقیناً اس زمانہ میں اشتراکیت کے فتنہ کو ہوا دینے والی سب سے بڑی چیز یہی ناگوار منظر ہے کہ ایک طبقہ تو گویا دولت میں لوٹتا پوشتا نظر آتا ہے اور دوسرا طبقہ اپنا پیٹ بھرنے اور بدن ڈھانکنے تک سے معذور ہے۔کم از کم ہماری جماعت کو یہ سبق ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ ہم اشتراکیت کا مقابلہ صرف چند فلسفیانہ باتوں کے ذریعہ نہیں کر سکتے بلکہ اس عملی نظام کے ذریعہ سے کر سکتے ہیں جو ہمارا پیارا مذ ہب اسلام دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے۔جو ہر دوستم کی انتہاؤں یعنی سرمایہ داری اور اشتراکیت سے بچ کر وسطی طریق پر گامزن ہوتا ہے۔اور ایک طرف افراد کے ذاتی حقوق اور ان کی ذاتی جد و جہد کو قائم رکھتا ہے۔اور دوسری طرف خوشحال طبقہ کی دولت میں غریبوں کو سائل کے طور پر نہیں بلکہ حق دار کے طور پر حصہ دار بناتا ہے۔بہر حال اب سردی کا موسم شروع ہے اور جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے اس موسم میں غریبوں کی ضروریات میں بہت اضافہ ہو جاتا ہے۔جسے وہ اپنی محدود آمد سے پورا نہیں کر سکتے۔پس جماعت کے خوشحال طبقہ کا فرض ہے کہ وہ حسب فرمانِ الہی اپنے اموال کا ایک حصہ اپنے غریب بھائیوں کی امداد میں خرچ کریں۔یہ امداد زیادہ تر مقامی ہونی چاہئے اور ہر ذی ثروت دوست کا فرض ہے کہ وہ اپنے ماحول میں نظر ڈال کر اپنے غریب ہمسایوں کی امداد کو پہنچے۔جو غریب ہمسائے موسم سرما کے کپڑوں سے محروم ہوں