مضامین بشیر (جلد 3) — Page 177
مضامین بشیر جلد سوم 177 توجہ دلائی تھی۔اور یہ اصول بیان کیا تھا کہ عام حالات میں اس قسم کے حادثات لاء آف نیچر یعنی قضا و قدر کے قانون کے ماتحت ظہور پذیر ہوتے ہیں۔اور ان کے لئے شریعت کے قانون کے ماتحت (جو انسان کی نیکی بدی سے تعلق رکھتا ہے ) وجو ہات تلاش کرنا درست نہیں بلکہ اس قسم کی کوشش بسا اوقات بعض خام طبیعتوں کو دہریت کی طرف اور بعض کو تناسخ کے عقیدہ کی طرف مائل کر دیتی ہے۔اس تعلق میں میں نے یہ بھی بتایا تھا کہ اگر چہ یہ دونوں از لی قانون یعنی (1) قانون شریعت اور (2) قانون نیچر خدا ہی کے بنائے ہوئے ہیں۔مگر خدا کی حکیمانہ مشیت کے ماتحت وہ الگ الگ دائروں میں کام کرتے ہیں۔اور عام حالات میں ایک دوسرے کے دائرے میں دخل انداز نہیں ہوتے۔چنانچہ میں نے اس قسم کی مثالیں دے کر تشریح کی تھی کہ کسی انسان کی نیکی یاد بینداری جو شریعت کے قانون سے تعلق رکھتی ہے اسے سنکھیا کے زہر سے محفوظ نہیں رکھ سکتی۔اور نہ ہی غرقاب پانی میں ڈوبنے سے بچا سکتی ہے اور نہ ہی ایک گرتی ہوئی چٹان کی نکر کے رستہ میں روک بن سکتی ہے وغیرہ وغیرہ۔کیونکہ یہ سب باتیں نیچر کے قانون کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔جس کی جزا سزا اسی دنیا میں ملتی ہے۔اور اس کے خلاف انسان کی نیکی بدی کا تعلق شریعت کے قانون کے ساتھ ہے جس کی جزا سزا کے لئے آخرت کی زندگی مقرر ہے۔اس قسم کی تشریح کرنے کے بعد میں نے اپنے اس مضمون میں یہ وضاحت بھی کر دی تھی کہ یہ ایک بہت وسیع اور باریک مضمون ہے جس کی تفصیل کی اس مختصر نوٹ میں گنجائش نہیں ہے۔البتہ جو دوست پسند کریں اور علمی شوق رکھتے ہوں وہ میری تصنیف ”ہمارا خدا‘ کے متعلقہ ابواب میں مفصل بحث مطالعہ کر سکتے ہیں۔میرے اس مضمون کے متعلق جس کا خلاصہ اوپر درج کیا گیا ہے ضلع مظفر گڑھ کے ایک دوست نے جو اپنے آپ کو ریاست پٹیالہ کا مہاجر ظاہر کرتے ہیں مجھے ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے اپنی اس پریشانی کا اظہار کیا ہے کہ اس مضمون سے جماعت میں غلط فہمی پیدا ہونے کا امکان ہے اور لوگوں کے دلوں میں اس غلط خیال کے جم جانے کا اندیشہ ہے کہ انبیاء اور صلحاء کے معجزات اور دعاؤں کی قبولیت کے نتیجہ میں بھی قضاو قدر کے حادثات کسی صورت میں ٹل نہیں سکتے۔اور اس طرح جماعت میں نعوذ باللہ دعاؤں کی طرف سے بے رغبتی اور ایک گونہ بے دینی کا رستہ کھل جائے گا۔میں اپنے اس دوست کے اس جذ بہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کیونکہ اس جذبہ کی بنیاد نیکی پر مبنی ہے۔مگر ساتھ ہی اس افسوس کے اظہار سے رک نہیں سکتا کہ ہمارے اس دوست نے نہ تو میرے اس مضمون کو غور سے پڑھا ہے اور نہ ہی جیسا کہ میں نے لکھا تھا میری تصنیف ”ہمارا خدا میں مفصل بحث مطالعہ کرنے کی تکلیف اٹھائی ہے ورنہ انہیں یقینا یہ پریشانی لاحق نہ ہوتی