مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 176 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 176

مضامین بشیر جلد سوم 176 اور بصارت کا ضائع جانا یقینی ہو گیا۔اس نے گھبرا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور میری آنکھوں کے لئے دعا فرمائیں۔آپ نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو میں تمہاری نظر کی بحالی کے لئے دعا کروں گا۔اور خدائی رحمت سے بعید نہیں کہ وہ تمہیں بصارت عطا کر دے۔لیکن چاہو تو اس صدمہ کے بدلے جو اہل نظر آتا ہے۔آخرت کا انعام قبول کر لو۔نیک دل صحابی نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ؟ میں آخرت والے انعام کو قبول کرتا ہوں۔یقیناً یہ ایک بہت آزمایا ہوا نسخہ ہے۔پس اے آزمانے والے یہ نسخہ بھی آزما بالآخر میں ہز ہائی نس مہتر صاحب چترال کے پسماندگان سے بھی دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔جنہوں نے اس بد قسمت جہاز کے حادثہ میں جان دی۔جسے عبدالحمید غزنوی چلا رہا تھا۔مرحوم مہتر چترال ابھی جوانی کے عالم میں تھے اور ایک قابل اور ہونہار اور ترقی پسند حکمران سمجھے جاتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے پسماندگان کا حافظ و ناصر ہو اور پاکستان کو ان کا نعم البدل عطا کرے۔آمین میں اس وقت بیمار ہوں۔زیادہ نہیں لکھ سکتا۔اور گو پہلے کی نسبت افاقہ ہے مگر ابھی تک ذراسی جسمانی اور دماغی کوفت سے بیماری کے عود کرنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔دوست دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے جلد کامل شفا دے کر خدمت دین کی توفیق عطا کرے۔اور میرا اور سب کا حافظ و ناصر ہو۔اور ہمیں ہر عسر ویسر میں اپنے دامنِ رحمت کے ساتھ وابستہ رکھے۔آمِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ (محرره 13 اکتوبر 1954 ء) وو۔۔۔۔۔۔۔روزنامه الفضل لاہور 15 اکتوبر 1953 ء) 4 دو دردناک حادثات“ والے مضمون سے متعلق ایک دوست کے سوال کا جواب الفضل کی اشاعت مورخہ 15 اکتوبر 1954 ء میں میرا ایک مختصر سا مضمون زیر عنوان دو دردناک حادثات شائع ہوا تھا۔اس مضمون میں میں نے میجر محمد اسلم خاں مرحوم کے اکلوتے بچے کے کھڑکی سے گر کر وفات پانے اور فلائنگ آفیسر عبدالحمید خان غزنوی کے الم ناک ہوائی حادثہ سے متعلق ان کے پسماندگان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اس قسم کے تلخ حادثات کے پس منظر اور ان کے دینی فلسفہ کی طرف