مضامین بشیر (جلد 3) — Page 162
مضامین بشیر جلد سوم 162 میں سردی کا موسم بھی خصوصیت رکھتا ہے۔کیونکہ سردی کی وجہ سے غرباء کے لباس اور پار چات اور بستر وغیرہ کی ضرورت بڑھ جاتی ہے اور جسم کی حرارت کو برقرار رکھنے کے لئے غذا بھی کچھ زیادہ ہو جاتی ہے۔پس جس طرح رمضان اور عیدین وغیرہ امداد غرباء کے خاص موسم ہیں اسی طرح سردی کا موسم بھی صدقہ کا خاص موسم ہے۔اور جماعت کے مخیر اصحاب ایسے وقت میں اپنے غریب بھائیوں کی امداد کر کے اور ان کی دعا لے کر خاص ثواب کما سکتے ہیں۔اور پھر ایسے لوگوں کے حق میں خدا کی بھی خاص نصرت نازل ہوتی ہے۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ مَنْ كَانَ فِى عَوْنِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي عَوْنِهِ یعنی جو شخص اپنے بھائی کی امداد کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی امداد میں کھڑا ہو جاتا ہے اور اللہ کی امداد سے بڑھ کر انسان کے لئے اور کونسا سہارا ہے؟ پس میں جماعت کے ذی ثروت اور مخیر اصحاب سے اپیل کرتا ہوں کہ اب جبکہ سردی کا موسم زور پکڑ رہا ہے تو وہ ایسے وقت میں اپنے غریب بھائیوں کی امداد کر کے ثواب کمائیں۔اور اس رزق کا عملی شکر یہ ادا کریں جو خدا نے انہیں دوسروں کی نسبت وافر دے رکھا ہے۔حق تو یہ ہے کہ ایسے رزق کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ وہ امراء کے گلے میں ایک لعنت بن جاتا ہے جو صرف اپنے نفس اور اپنے اہل وعیال کی ضروریات پورا کرنے تک محدودر ہے۔اور اس میں سے جماعت اور غریب بھائیوں کا حق نہ نکالا جائے۔رزق کے شکریہ کا طریق اس سے بڑھ کر اور کوئی نہیں کہ اس میں سے جماعت اور اپنے غریبوں کا حق نکالا جائے۔وَ اِنْ شَكَرْتُمْ لَا زِيدَنَّكُمُ ایک بہت لطیف اور آزمودہ نسخہ ہے۔غرباء کی امداد کے لئے یہ کوئی شرط نہیں کہ کہاں دیا جائے اور کس غریب کو دیا جائے۔بلکہ جو بھی غریب ہو اور جہاں بھی ہو اس کی امداد موجب ثواب اور موجب رڈ بلا ہے۔بلکہ اپنے قریب کے غریبوں کی امداد زیادہ ثواب کا باعث ہے۔کیونکہ غریب رشتہ داروں اور ہمسایوں کا حق سب سے بھاری ہوتا ہے۔لیکن چونکہ مرکز سلسلہ میں بھی مستحق غرباء کا ایک طبقہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔اس لئے اپنے ماحول کے بعد مرکز کا حق مقدم ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے دوستوں کے ساتھ ہو۔اور انہیں نیک نیتی کے ساتھ خدا کے رستہ میں خرچ کرنے کی توفیق دے۔وَ إِنَّمَا الأعْمَالُ بالنِّيَاتِ وَلِكُلِّ امْرِى مَانَوَى - محرره 12 دسمبر 1953ء) (روز نامہ المصلح کراچی 16 دسمبر 1953ء)