مضامین بشیر (جلد 3) — Page 154
مضامین بشیر جلد سوم 154 عَقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَ كَانَ مُتَّكِبًا فَجَلَسَ فَقَالَ أَلَا وَ قَوْلَ النُّورِ فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ - ( بخاری کتاب الادب باب عقوق الوالدین) یعنی کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہوں پر مطلع نہ کروں؟ اور آپ نے یہ الفاظ تین دفعہ فرمائے۔صحابہ نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ۔آپ ضرور ہمیں مطلع فرمائیں۔آپ نے فرمایا۔تو پھر سنو کہ سب سے بڑا گناہ خدا کا شرک کرنا ہے۔اور اس کے بعد سب سے بڑا گناہ والدین کی خدمت سے غفلت برتنا ہے۔اور پھر (اور یہ کہتے ہوئے آپ تکیہ کا سہارا چھوڑ کر اٹھ بیٹھے اور جوش کے ساتھ فرمایا کہ پھر ) جھوٹ بولنا سب سے بڑا گناہ ہے۔اور آپ نے یہ الفاظ اتنی دفعہ دہرائے کہ راوی بیان کرتا ہے کہ ہم نے آپ کی تکلیف کا خیال کر کے دل میں کہا کہ کاش اب آپ خاموش ہو جائیں اور زیادہ تکلیف نہ فرمائیں۔ظاہری اور باطنی شرک یہ لطیف حدیث تین ایسی اصولی ہدایتوں پر مشتمل ہے جو بچوں کی تربیت میں عظیم الشان اثر رکھتی ہیں۔پہلی بات شرک ہے۔یعنی خدا کی ذات یا صفات میں اس کا کوئی شریک یا برابر ٹھہرانا۔خوش قسمتی سے اس زمانہ میں بیٹوں اور دیوتاؤں کے سامنے سر جھکانے والا شرک تو اسلامی توحید کے اثر کے ماتحت دنیا سے آہستہ آہستہ مٹ رہا ہے۔لیکن بدقسمتی سے شرک کی ایک مخفی قسم ایسی ہے جس میں بہت سے مسلمان بھی مبتلا ہیں۔مخفی شرک سے مراد یہ ہے کہ کسی چیز کی ایسی عزت کی جائے جوصرف خدا کی کرنی چاہئے۔یا کسی چیز کے ساتھ ایسی محبت رکھی جائے جو صرف خدا کے ساتھ رکھنی چاہئے۔یا کسی چیز پر ایسا بھروسہ کیا جائے جوصرف خدا پر ہونا چاہئے۔اسلام دین ودنیا کے مختلف کاموں کے لئے ظاہری تدبیروں کے اختیار کرنے سے ہرگز نہیں روکتا۔بلکہ ان کی ہدایت فرماتا ہے مگر ان پر بھروسہ کرنے اور انہیں ہی کامیابی کا آخری سہارا سمجھنے سے ضرور روکتا ہے اور بڑی سختی سے روکتا ہے۔پس احمدی ماؤں کا ، ہاں نیک اور دیندار ماؤں کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کے دلوں سے اس مخفی شرک کو جو اس زمانہ میں لا تعداد روحوں کو تباہ کر رہا ہے بیخ و بن سے نکال کر پھینک دیں۔اور انہیں ہر حال میں مادی تدبیریں اختیار کرنے کے باوجود خدا کی طرف دیکھنے اور خدا پر بھروسہ کرنے کی تعلیم دیں۔خاکسار راقم الحروف نے ایسی نیک مائیں دیکھی ہیں ( اور کاش کہ سب مائیں ایسی ہی ہوں ) کہ وہ ایک طرف اپنے بیمار بچے کو دوا دے رہی ہوتی ہیں اور دوسری طرف اسے تھپک تھپک کر سمجھاتی جاتی ہیں کہ بچے یہ دوائی پی لو۔خدا کا حکم ہے۔اس