مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 146 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 146

مضامین بشیر جلد سوم 146 اس لطیف حدیث میں ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف مسلمانوں کے گھروں کی موجودہ خانگی خوشی کی بنیاد قائم فرما دی ہے بلکہ ان کی آئندہ نسلوں کی بہتری اور بہبودی کے سوال کو بھی ایک ایسے مضبوط اور دائمی کڑے کے ساتھ باندھ دیا ہے جو ٹوٹنے کا نام نہیں جانتا۔ظاہر ہے کہ ایک اچھی اور نیک بیوی جو دیندار بھی ہو اور خوش اخلاق بھی ہو ( کیونکہ دین کے لفظ میں دونوں باتیں شامل ہیں ) صرف اپنے خاوند کے لئے ہی خوشی اور راحت کا موجب نہیں ہوگی بلکہ لازماً اپنی اولاد کی تربیت کے حق میں بھی بہت مبارک ثابت ہوگی۔اور اس طرح حال اور مستقبل دونوں کی خوشیوں کے مکمل ہونے سے ایسا گھر حقیقتا جنت کا نمونہ بن جائے گا۔یہ خیال کرنا کہ اس حدیث میں تو صرف مرد کے لئے حکم ہے کہ وہ دیندار عورت سے شادی کرے اور عورت کے لئے کوئی حکم نہیں۔ایک بالکل باطل خیال ہے کیونکہ جب مرد کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ نیک بیوی تلاش کرے تو لازماً اس حکم میں یہ یمنی حکم بھی شامل ہے کہ مسلمان عورتیں بھی نیک اور دیندار بنیں۔کیونکہ اگر دنیا میں دیندار عورتیں ہوں گی ہی نہیں تو مردوں کو دیندار بیویاں میسر کیسے آئیں گی؟ پس اس حدیث میں دراصل یہ دُہرا حکم شامل ہے کہ۔(1) مسلمان عورتیں دیندار اور با اخلاق بنیں۔ورنہ کوئی دیندار مردان کے رشتہ پر راضی نہیں ہوگا۔اور نہ ان کی آئندہ نسل دیندار بن سکے گی۔(2) مسلمان مردد میندار اور با اخلاق عورتوں کے ساتھ شادی کریں۔تا کہ نہ صرف ان کا اپنا گھر جنت کا نمونہ بنے بلکہ ان کی اولاد کے واسطے بھی دائمی جنت کے دروازے کھل جائیں۔یہ وہ دہری غرض ہے جس کے ماتحت ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ زریں ارشاد جاری فرمایا ہے۔لہذا مردوں اور عورتوں دونوں کو چاہئے کہ اس مبارک ارشاد کو اپنے لئے شمع ہدایت بنا کر دائگی راحت اور دائمی سرور اور دائمی برکت کا ورثہ پانے کی کوشش کریں۔نیک ماں نیک اولاد پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے پس اولاد کی تربیت کے تعلق میں پہلی ہدایت اسلام کی یہ ہے کہ مردد بیندار عورتوں کے ساتھ شادی کریں اور ہر ماں خود دیندار بننے کی کوشش کرے۔کیونکہ بے دین ماں دینی تربیت کی اہلیت نہیں رکھتی۔بیشک قرآن مجید یہ بھی فرماتا ہے کہ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ (ال عمران (28) یعنی خدامر دوں میں سے زندے پیدا کر دیتا ہے اور زندوں میں سے مُردے پیدا کر دیتا