مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 138 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 138

مضامین بشیر جلد سوم 138 ہمارے سلسلہ کے بانی حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی واقعی خدا کی طرف سے مامور ہیں اور خدا نے ہی انہیں اس زمانہ میں مسیح موعود بنا کر اور نائب رسول کا خلعت پہنا کر احیاء دین اور خدمتِ اسلام کے لئے مبعوث کیا تھا تو باقی باتیں خود بخود حل ہو جاتی ہیں۔اور کسی مزید بحث کی گنجائش نہیں رہتی۔لہذا عقلمندی کا تقاضا یہی ہے کہ جڑ کو پکڑا جائے نہ کہ شاخوں میں الجھا جائے۔شاخوں میں الجھنے والے کبھی ہدایت نہیں پاتے۔کیونکہ شاخیں سینکڑوں ہزاروں ہوتی ہیں اور شاخوں کا معائنہ کرتے کرتے انسان کی محدود عمر ختم ہو جاتی ہے۔اور اصولاً بھی یہ طریق کسی طرح درست نہیں کہ بحث کے مرکزی نقطہ کو ترک کر کے آس پاس کی باتوں میں وقت ضائع کیا جائے۔هَذَا هُوَ الْحَقُّ فَافُهُمْ وَ تَدَبَّرُ وَلَا تَكُنْ مِنَ الْمُمْتَرِينَ - (محررہ 14 اکتوبر 1953ء) (روز نامه مصلح 25 اکتوبر 1953ء) اگر موت کا وقت مقرر ہے تو پھر مریض کا علاج بے سود ہے ایک غیر احمدی دوست کے سوال کا جواب / 1950ء کی بات ہے کہ میں نے مسئلہ تقدیر کے متعلق ایک مہاجر دوست کے سوال کے جواب میں تین مضمون پے در پے لکھے تھے جو الفضل مورخہ 8 اگست 1950 ء ومورخہ 26 اگست 1950 ء ومورخہ 30 ستمبر 1950 ء میں شائع ہوئے تھے۔ان میں سے پہلا مضمون تو لائل پور ( حال فیصل آباد ) کے ایک مہاجر دوست کے سوال کے جواب میں تھا۔جن کا ایک نوجوان عزیز صحیح علاج میسر نہ آنے کی وجہ سے ضلع لائل پور (حال فیصل آباد ) کے ایک گاؤں میں فوت ہو گیا تھا۔اور دوسرے دو مضمون دو دیگر دوستوں کے سوالوں کے جواب میں تھے اور گویا اصل مضمون کے لئے بطور تمہ تھے۔اب اسی سلسلہ میں ایک معزز غیر احمدی دوست کی طرف سے یہ سوال موصول ہوا ہے کہ جب عام اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ موت کا ایک وقت مقرر ہے تو پھر یہ نظریہ کہ صحیح علاج سے مریض شفایاب ہو سکتا ہے درست نہیں ٹھہرتا۔کیونکہ جب موت کا مقدر وقت آجاتا ہے تو پھر علاج یا عدم علاج کا سوال ہی باقی نہیں رہتا۔گویا یا تو یہ خیال غلط ہے کہ موت کا کوئی وقت مقرر ہے۔اور یا یہ نظریہ درست نہیں کہ صحیح علاج سے بیمار شفایاب ہوسکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ہمارے یہ سوال کرنے والے غیر احمد کی دوست بھی اپنے ایک نو جوان بچے کی وفات سے صدمہ رسیدہ