مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 137 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 137

مضامین بشیر جلد سوم 137 غضب ہو گیا۔کہ یہ مٹھی بھر لوگ ہم میں رہتے ہوئے ہمارے مقابلہ پر آہ بھرنے کی جرات کرتے ہیں!! کیا یہ وہ رواداری ہے جو اسلام سکھاتا ہے؟ کیا یہ وہ مذہبی آزادی ہے جس کی ہمارے آقا سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تعلیم دی ہے؟ ہمیں جانے دیجئے۔یہی دیکھئے کہ دنیا کیا کہے گی ہاں وہی دنیا جس کی آنکھیں اس وقت خدا داد مملکت پاکستان پر لگی ہوئی ہیں کہ یہ نوزائیدہ حکومت انصاف اور آزادی اور مساوات اور مذہبی رواداری کا کیا نمونہ دکھاتی ہے۔باقی رہا تبلیغ کا سوال۔سو اسلام نے لا إِكْرَاهَ فِي الدِّين (البقرہ: 257) (یعنی دین کے معاملہ میں کسی قسم کا جبر نہیں ہونا چاہئے ) کا زریں اصول بیان کر کے اس بحث کا ہمیشہ کے لئے فیصلہ کر دیا ہے اور وہ یہ کہ جس فرد یا فریق کے نزدیک کوئی بات اچھی ہو اور وہ اسے دنیا کے لئے مفید سمجھتا ہو تو وہ بیشک اسے امن اور محبت کے طریق پر دوسروں تک پہنچائے۔مگر وہ دوسروں کو مجبور نہیں کرسکتا کہ وہ اس کی بات ضرور مانیں۔بلکہ ماننا نہ ماننا دوسروں کی تسلی پر موقوف ہے۔اس نظریہ کے ماتحت آپ بڑی خوشی سے مجھے اپنی بات سنائیں۔میں یقیناً شوق اور توجہ کے ساتھ سنوں گا۔اور اسی طرح آپ کو میری معروضات سننے کے لئے تیار ہونا چاہئے۔کیونکہ دنیا میں علمی تحقیق اور علمی ترقی کا یہی واحد ذریعہ ہے کہ ایک دوسرے کی باتیں سن کر غور کیا جائے اور اسی کے پیش نظر ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اِخْتِلَافُ أُمَّتِي رَحْمَةٌ ( یعنی میری امت کا اختلاف جو نیک نیتی پر مبنی ہو رحمت کا ذریعہ ہے) بس اس سے زیادہ میں اس وقت آپ کے خط کے جواب میں کچھ عرض نہیں کروں گا۔ہاں اگر آپ نے کسی امر میں مزید توضیح چاہی تو بندہ حاضر ہے۔اور یہ بھی میں عرض کر چکا ہوں کہ اگر آپ کی طرف سے یہ اصرار ہوا کہ یہ جواب ضرور اخبار میں شائع کرایا جائے تو اس سے بھی انکار نہیں ہوگا۔کیونکہ آں را کہ حساب پاک است از محاسبه چه باک۔بالآخر صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ امید ہے کہ آں عزیز میری اس مختصر تحریرہ پر صاف دلی کے ساتھ غور کریں گے کہ یہی صاف دلی دین و دنیا میں فلاح و کامیابی کی کلید ہے۔نوٹ :۔امر زیر نظر کے متعلق اصل جواب تو ختم ہو گیا۔لیکن اس تعلق میں ایک مزید بات یہ بھی ضرور یا درکھنی چاہئے کہ جماعت احمدیہ اور دوسرے مسلمانوں کے اختلاف کا مرکزی نقطہ نماز کی اقتداء اور رشتہ ناتا وغیرہ کا سوال ہرگز نہیں۔بلکہ اصل امر صرف اور صرف حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا دعویٰ ماموریت ہے۔اگر