مضامین بشیر (جلد 3) — Page 132
مضامین بشیر جلد سوم ہے اور یہ دونوں باتیں طوالت کی مانع ہیں۔وَاخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (محرر 29 اگست 1953 ء) 132 (روزنامه المصلح کراچی 3 ستمبر 1953ء) ہم نے اپنے آپ کو دوسرے مسلمانوں سے نہیں کاٹا مگر اختلافی امور سے بھی انکار بھی نہیں کیا اخبار الصلح کراچی مورخہ 3 ستمبر 1953ء میں میرا ایک مضمون زیر عنوان ” کیا ہم نے اپنے آپ کو دوسرے مسلمانوں سے کاٹ رکھا ہے؟“ شائع ہوا تھا جس میں میں نے اپنے ایک ابتدائی رسالہ کلمتہ الفصل (مصنفہ 1915ء) کے ایک پرانے حوالے کی تشریح کرتے ہوئے بیان کیا تھا کہ ہمارے خلاف جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم نے اپنے آپ کو دوسرے مسلمانوں سے از خود کاٹ رکھا ہے یہ ہرگز درست نہیں کیونکہ بعض معتقدات میں اختلاف کے باوجود (اور اختلاف مسلمانوں کے 72 فرقوں میں سے کم و بیش ہر فرقہ میں پایا جاتا ہے ) ہم امت محمدیہ میں شامل ہونے کے لحاظ سے دوسرے مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور اسی شریعت پر عامل اور اسی شریعت کے پابند ہیں جو قرآن مجید کی صورت میں ہمارے آقا فداہ نفسی ) صلے اللہ علیہ وسلم پر آج سے چودہ سو سال پہلے نازل ہوئی تھی۔اور ہم نے ہر اس معاملہ میں جو قو می اور ملی رنگ میں کسی نہ کسی صورت میں مسلمانوں پر اثر انداز ہوتا تھا اور ہوتا ہے ہمیشہ مسلمانوں کا ساتھ دیا ہے۔اور ان کی بے لوث خدمت کو اپنا فرض منصبی جانا ہے۔اور بیرونی ممالک میں جماعت احمدیہ کی جانب سے تبلیغ اسلام کی خدمت مزید برآں ہے۔جس کے لئے ہمارے قریباً ایک سو مبلغ خدا کے فضل سے ہر غیر مسلم ملک میں اعلائے کلمۃ اللہ کی خدمت میں شب وروز مصروف ہیں۔مگر باوجود اس کے ہم نے کبھی اختلافی امور سے انکار نہیں کیا اور نہ اب کرتے ہیں۔اور نہ ہم نے کبھی اپنے آپ کو ملی رنگ میں دوسرے مسلمانوں سے کاٹ کر کوئی علیحد ہ امت قرار دیا ہے۔وغیرہ وغیرہ میرے اس مضمون پر لاہور کے ایک غیر احمدی ایم۔اے سٹوڈنٹ ( نام ظاہر کرنا مناسب نہیں ) کی