مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 131 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 131

مضامین بشیر جلد سوم 131 ہے۔اس سے ڈرو کہ ایک دن اس کے سامنے پیش کئے جاؤ گے۔ہمارے سلسلہ کے بانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بار بار اور نہایت زور دار الفاظ میں اپنے مخالفوں کو مخاطب ہو کر کہا کہ میں نے ہر گز کسی ایسی نبوت کا دعوی نہیں کیا جو تمہارے دماغوں میں ہے۔جس سے انسان مستقل حیثیت میں نبوت کا منصب پاتا ہے یا کوئی نئی شریعت لاتا ہے۔بلکہ میں تو حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خادم اور قرآنی شریعت پر قائم ہوں۔اور میں نے جو کچھ پایا ہے اپنے آقا سرور کائنات فخر موجودات کی شاگردی اور غلامی میں پایا ہے۔اور نبوت سے میری مراد صرف کثرتِ مکالمہ مخاطبہ الہیہ اور اظہار علی الغیب ہے۔جس سے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فیض سے مشرف کیا گیا ہوں۔اور قرآنی شریعت کا جو امیری گردن پر ہے مگر پھر بھی خود غرض لوگ اپنے اپنے سیاسی اور اقتصادی مقاصد کے ماتحت یہ کہتے چلے جاتے ہیں کہ مرزا صاحب نے تو نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نبوت کو منسوخ کر دیا ہے اور ایک نئے مذہب اور نے کلمہ کی بنیا درکھی ہے۔کیا یہ ظلم اور یہ افتراء خالی جائے گا اور کیا آسمان پر کوئی ہستی ان ظلموں کو دیکھنے والی موجود نہیں؟ مگر باوجود اس کے ہم بارہا کہہ چکے ہیں اور ہم نے ہر موقع پر اپنے عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ ہم دوسرے مسلمانوں کے دلی خیر خواہ ہیں۔اور ان کے ایک طبقہ کا ظلم ہمیں اس حقیقت کی طرف سے غافل نہیں کر سکتا کہ خواہ کچھ ہو دوسرے مسلمان بھی آخر اُسی رسول کے نام لیوا اور اسی شریعت کے تابع ہیں جس کا جوا ہماری گردنوں پر ہے۔ہمارا آسمانی آقا ہمیں انشاء اللہ ان مظالم کے طوفان میں بھی صابر اور شا کر پائے گا۔اور ہم خدا کی توفیق سے اپنے سلسلہ کے مقدس بانی علیہ السلام کے اس ارشاد کو فراموش نہیں کریں گے جو آپ نے اپنے اشد ترین مخالفین کے متعلق فرمایا کہ۔اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاہ دار کآخر کنند دعوی حُبّ پیمبرم یعنی اے میرے زخم خوردہ دل تو ان مخالفوں کے ظلم اور ایذارسانی کے باوجود ان کا لحاظ رکھ۔کیونکہ خواہ کچھ ہو وہ میرے رسول کی محبت کا دعوی کرتے ہیں۔اس لطیف شعر میں ” میرے رسول“ کے الفاظ ملاحظہ ہوں کہ کس بے پناہ محبت کے حامل ہیں؟ بس اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہوں گا۔کیونکہ اس وقت جسم کمزوری محسوس کر رہا ہے اور روح جذبات سے چھلک رہی