مضامین بشیر (جلد 3) — Page 122
مضامین بشیر جلد سوم 122 سے مؤخر الذکر شخص زیادہ زیر ملامت ہے کہ آنکھوں میں بینائی رکھتے ہوئے اس سے کام نہیں لیتا۔لہذا دوستوں کو ہمیشہ اپنی دعاؤں میں دینی اور روحانی برکات کے حصول کو مقدم رکھنا چاہئے۔بے شک وہ خدا سے دنیا کی نعمتیں بھی مانگیں کیونکہ دنیا کی ضرورتیں بھی خدا ہی کی پیدا کردہ ہیں۔اور وہی انہیں پورا کرنے والا ہے مگر مقدم دینی اور جماعتی ضرورتوں کو کرنا چاہئے۔اور چونکہ آج کل ہماری جماعت خاص حالات میں سے گزر رہی ہے اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ اس رمضان کے آخری عشرہ کو دوست خاص طور پر دینی اور جماعتی دعاؤں میں گزاریں گے۔اور انہیں اپنی انفرادی اور دنیوی دعاؤں پر مقدم کریں گے۔آخری عشرہ کی طاق راتیں خصوصیت سے زیادہ بابرکت ہوتی ہیں۔اور انہی طاق راتوں میں سے ایک لیلۃ القدر بھی ہے۔جس کے متعلق قرآن مجید فرماتا ہے کہ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرِ تَنَزَّلُ الْمَلَئِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِّنْ كُلِّ أَمْرِ سَلْمٌ هِىَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ (القدر: 4-6)۔پس جو وسیع اور بابرکت نہر خدا نے جاری کی ہے۔جس کا میسر آجانا گویا عام حالات میں انسان کی عمر بھر کی برکتوں سے بھی بہتر ہوتا ہے۔اُس کی قدر کر کے جماعتی مشکلات کے دور ہونے اور خدائی نعمتوں اور برکتوں کے نزول کے لئے دست بدعا ر ہیں۔اگر جماعت مشکلات اور تکالیف اور ابتلاؤں کے بھنور میں پھنسی رہی تو زید یا بکر کو مال اور نوکری اور اولا داور صحت اور عزت کے مل جانے سے جماعت کو کیا حاصل ہوسکتا ہے۔لیکن اگر جماعت کو وہ کامیابی اور ترقی اور سرفرازی مل گئی جس کے لئے وہ پیدا کی گئی ہے اور اگر اس کے ہاتھ سے اسلام کی وہ خدمت سرانجام پاگئی ہے جو اس کے لئے خدا کے فضل سے مقدر ہے۔تو زید یا بکر کی انفرادی ضرورتوں کے حصول کا رستہ بھی خود بخود کھل جائے گا۔پس دوستوں کو چاہئے کہ اس عشرہ میں نہ صرف دعاؤں پر خاص زور دیں بلکہ جماعتی دعاؤں کو مقدم کریں۔کہ اسی میں ہماری ساری ترقی اور کامیابی کا راز مضمر ہے۔وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَظِيمِ - محرره 3 / جون 1953 ء ) (روز نامہ المصلح کراچی 9 جون 1953 ء ) رضوان عبد اللہ کی المناک وفات کل شام کو نماز عصر کے وقت رضوان عبداللہ جو حبشہ سے آیا ہوا ایک طالب علم تھا اور جامعہ احمدیہ کی