مضامین بشیر (جلد 3) — Page 118
مضامین بشیر جلد سوم 118 سود کی حرمت کے ساتھ ساتھ اسلام نے جوئے کو بھی حرام قرار دیا ہے۔کیونکہ جوئے میں دولت کے حصول کو محنت اور ہنر مندی پر مبنی قرار دیا جاتا ہے جو نہ صرف قومی اخلاق کے لئے مہلک ہے بلکہ بسا اوقات ملک میں دولت کی ناواجب تقسیم کا بھی ذریعہ بن جاتا ہے۔غیر معمولی اقتصادی حالت کا علاج اوپر والا نظام جس میں ایک طرف ذاتی جائیداد کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے اور دوسری طرف ملکی دولت کو زیادہ سے زیادہ سمونے اور امیر وغریب کے فرق کو کم سے کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، عام حالات کے لئے قائم کیا گیا ہے۔لیکن اگر کسی وقت ملک میں قحط یا جنگ وغیرہ کی وجہ سے غیر معمولی حالات پیدا ہو جائیں اور خوراک کے ذخیروں میں غیر معمولی کمی آجائے۔یعنی ملک وقوم کے ایک حصہ کے پاس تو نسبتاً زائد خوراک موجود ہو اور دوسرے حصہ کے پاس اس کی اقل ضرورت سے بھی کم ہو یا بالکل ہی نہ ہو اور لوگوں کی جانوں کا خطرہ پیدا ہو جائے۔تو اس قسم کے خاص حالات میں اسلام حکم دیتا ہے کہ امیروں اور غریبوں کے ذخیروں کو اکٹھا کر کے سب کی ضرورت کے مطابق راشن بندی کر دی جائے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ میں کئی موقعوں پر اس قسم کے حالات پیدا ہوئے۔اور آپ نے ان غیر معمولی حالات میں نہ صرف اس قسم کے استثنائی انتظام کی اجازت دی بلکہ اسے پسند فرمایا اور اس کی تاکید کی۔مثلاً حدیث میں آتا ہے۔خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزُوَةٍ فَأَصَابَنَا جَهْدٌ حَتَّى هَمَمْنَا أَنْ نَنْحَرَ بَعْضَ ظَهْرِنَا فَأَمَرَ نَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعْنَا مَزَاوِدَنَا ( مسلم باب استجاب خلط الازواد ) یعنی ایک صحابی روایت کرتے ہیں کہ ہم آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں نکلے۔مگر راستہ میں ہمیں خوراک کی سخت کمی پیش آ گئی۔حتی کہ مجبور ہو کر ہم نے (سواریوں کی کمی کے باوجود ) ارادہ کیا کہ خوراک کے لئے اپنی بعض سواری کی اونٹنیاں ذبح کر دیں۔اس پر آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ سب لوگوں کے خوراک کے ذخیرے اکٹھے کر لئے جائیں۔اور پھر آپ نے اس جمع شدہ ذخیرہ میں سے سب کو حسب ضرورت راشن تقسیم کرنا شروع کر دیا۔اسی طرح ایک اور دوسری حدیث میں آتا ہے کہ