مضامین بشیر (جلد 3) — Page 117
مضامین بشیر جلد سوم 117 ضروری تھا کہ جبری نظام کے ساتھ ساتھ اس قسم کا طوعی نظام بھی قائم کیا جاتا تا کہ لوگوں کے دلوں میں اخوت اور محبت اور انفرادی ہمدردی کے جذبات کو زندہ رکھا جا سکے۔لیکن اس کے مقابل پر اشتراکیت ان سنہ جذبات کو مٹا کر انسان کو بھی گویا میکنائزڈ (Mechanized) اور محض ایک مشین بنانا چاہتی ہے۔اسلام کا نظام تجارت ولین دین اسی تعلق میں اسلام کا قانون تجارت اور قانون لین دین بھی ملکی دولت کے نا واجب اجتماع کو روکنے کی ایک بھاری مشینری ہے۔حق یہ ہے کہ اسلام نے سود کو حرام قرار دے کر دولت کے توازن کو بر باد کر نے کا ایک بہت بڑا آلہ یکسر مٹا دیا ہے۔سود کے ذریعہ انسان کو اپنی طاقت سے بڑھ کر قرضہ برداشت کرنے کی نا واجب جرات پیدا ہوتی ہے اور عوام کا روپیہ سمٹ سمٹ کر آہستہ آہستہ امیروں کے خزانہ میں جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔اور اگر غور کیا جائے تو دنیا میں زیادہ تر سود ہی سرمایہ داری کو بھیانک صورت دینے کا ذمہ دار ہے۔اگر آج سود کا لین دین بند ہو جائے تو ملک کی بڑی بڑی تجارتیں اور صنعتیں چند سرمایہ دار افراد کے ہاتھ سے نکل کر یا تو مشتر کہ سرمایہ والی تجارت اور مشتر کہ صنعت کی صورت میں منتقل ہو جائیں گی۔اور یا اس قسم کی بڑی تجارتیں اور صنعتیں جو ملکی دولت کے توازن کو خراب کرنے والی ہیں حکومت کے ہاتھ میں چلی جائیں گی اور دونوں طرح دولت کے سمونے کا رستہ کھلے گا۔اور ظاہر ہے کہ چند خاص تجارتوں اور صنعتوں کے حکومت کے قبضہ میں ہونے سے کوئی حرج لا زم نہیں آتا۔بلکہ اس میں بعض ملکی اور قومی فوائد متوقع ہیں۔اس کے علاوہ سود کی حرمت سے پرائیویٹ لین دین کے میدان میں بھی امیروں کے لئے غریبوں کے مال پر ڈاکہ ڈالنے اور ان کے خون چوسنے کا موقع نہیں رہتا۔یہ خیال کہ سود کے بغیر تجارت نہیں چل سکتی ایک محض نظر کا دھوکہ ہے جو موجودہ ماحول کی وجہ سے پیدا ہوا ہے جبکہ یورپ و امریکہ کے سرمایہ داروں کی وجہ سے سود کا جال عالمگیر صورت میں وسیع ہو چکا ہے۔ورنہ اس سے قبل سود کے بغیر بھی دنیا کی تجارت چلتی تھی۔اور انشاء اللہ اس باطل ماحول کے مٹنے پر پھر چلے گی اور پہلے سے بڑھ کر چلے گی۔سود کی جگہ اسلام نے قرضہ بصورت رہن اور مشتر کہ سرمایہ کے طریق کو ترجیح دی ہے۔کیونکہ اس میں دولت کے توازن کو بگاڑنے کے بغیر تجارت کا رستہ کھلتا ہے اور انفرادی ہمدردی کے جذبات کو بھی ٹھیس نہیں لگتی۔