مضامین بشیر (جلد 3) — Page 116
مضامین بشیر جلد سوم 116 ہوئے مقدس باقی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جو الفاظ فرمائے ہیں وہ بھی اس ٹیکس کی غرض وغایت کو واضح کر رہے ہیں۔آپ نے فرمایا۔تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَ تُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ (صحیح بخاری کتاب الزكاة باب وجوب الزكاة ) یعنی زکوۃ کے نظام کا مقصد یہ ہے کہ دولت رکھنے والے لوگوں کی دولت کا ایک حصہ کاٹ کر غریبوں اور کمزور لوگوں کی طرف لوٹایا جائے۔اس حدیث میں لوٹایا جائے“ کے لطیف اور پر معنی الفاظ اس غرض سے استعمال کئے گئے ہیں کہ تا ظاہر ہو کہ یہ ٹیکس غریبوں کو احسان کے طور پر نہیں دیا جاتا۔جس کی وجہ سے بے اصول امیروں کو ان پر احسان جتانے کا موقع پیدا ہو۔بلکہ یہ ایک ضروری اور قدرتی حق ہے۔جو خالق قدرت نے امیروں کے مال میں غریبوں کا مقرر کر رکھا ہے۔کیونکہ اول تو اصل ملکیت خدا کی ہے جو سب کا آقا و مالک ہے۔اور دوسرے حقیقتاً ہر مال کے پیدا کرنے میں لازماً غریبوں اور مزدوروں کا ہاتھ ہوتا ہے۔پھر زکوۃ کے معنے بھی پاک کرنے اور ترقی دینے کے ہیں۔کیونکہ ایک طرف زکوۃ کی ادائیگی زکوۃ دینے والے کے مال کو دوسروں کے حق سے پاک کرتی ہے اور دوسری طرف وہ زکوۃ لینے والوں کی ترقی کا سامان بھی مہیا کرتی ہے۔بہر حال زکوۃ قومی اور ملکی دولت کو سمونے اور غریب لوگوں کو اوپر اٹھانے کا ایک مؤثر اور جبری ذریعہ ہے جوملکی یا قومی انتظام کے ماتحت اختیار کیا جاتا ہے۔امداد باہمی کا طوعی نظام قانون امداد باہمی کا دوسرا حصہ طوعی نظام سے تعلق رکھتا ہے۔اس نظام کے ذریعہ اسلام نے غریبوں کی مالی امداد کے علاوہ سوسائٹی میں باہم محبت اور ہمدردی اور مواسات کے جذبات کو زندہ رکھنے کا دروازہ بھی کھولا ہے۔اسلام نے اس طوعی نظام پر انتہائی زور دیا ہے اور غریب بھائیوں کی ہمدردی اور امداد کو ایک نہایت اعلیٰ درجہ کی نیکی قرار دیا ہے۔اور خود ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال تھا کہ حدیث میں آتا ہے کہ غریبوں اور مسکینوں اور قیموں کی امداد میں آپ کا ہاتھ اس تیز آندھی کی طرح چلتا تھا جو کسی روک کو خیال میں نہیں لاتی۔اور آپ اکثر یہ بھی نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ جہاں زکوۃ بر ملا ادا کرو کیونکہ جبری ٹیکس ہونے کی وجہ سے وہ حکومت کے انتظام کے ماتحت خرچ ہوتی ہے وہاں ذاتی اور انفرادی امداد حتی الوسع خفیہ طریق پر دو تا کہ دینے والے کے دل میں احسان کا خیال اور لینے والے کے دل میں مکمتری کا احساس نہ پیدا ہو۔اور جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے غریبوں اور مسکینوں کی امداد کا یہ طوعی نظام زکوۃ کے جبری نظام کے علاوہ تھا۔اور