مضامین بشیر (جلد 3) — Page 99
مضامین بشیر جلد سوم چالیس جواہر پارے کا عرض حال ایڈیشن اوّل 99 میں نہیں جانتا کہ اس کی کیا وجہ ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ مجھے بچپن سے حدیث کے علم کے ساتھ ایک فطری قسم کا لگاؤ رہا ہے اور جب کبھی بھی میں کوئی حدیث پڑھتا ہوں تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں گویا رسول پاک صلے اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شریک ہو کر حضور کے مقدس کلام سے مشرف ہورہا ہوں۔میرا تخیل مجھے آج سے چودہ سو سال قبل مکہ مکرمہ کی مسجد حرام اور مدینہ طیبہ کی مسجد نبوی اور حرمین شریفین کی گلیوں اور عرب کے صحرائی رستوں میں پہنچا کر رسول اکرم صلے اللہ علیہ وسلم کی روحانی صحبت اور معنوی رفاقت کا لطف عطا کر دیتا ہے۔اور پھر میں کچھ وقت کے لئے دنیا سے کھویا جا کر اس فضا میں سانس لینے لگتا ہوں جس میں ہمارے محبوب آقا نے اپنی خدا دا د نبوت کے 23 مبارک سال گزارے۔لیکن غالباً جس حدیث نے میرے دل اور دماغ پر سب سے زیادہ گہرا اور سب سے زیادہ وسیع اثر پیدا کیا، وہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے ایک ایسے ارشاد سے تعلق رکھتی ہے جس میں فقہ اور علم کلام کا تو کوئی عصر شامل نہیں۔مگر میرے ذوق میں وہ اسلام اور روحانیت کی جان ہے۔روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ ایک غریب مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے ماتھے پر عبادت وریاضت کا تو کوئی خاص نشان نہیں تھا مگر اس کے دل میں محبت رسول کی چنگاری تھی۔جس نے اس کے سینہ میں ایک مقدس چراغ روشن کر رکھا تھا۔اس نے قرب رسالت کی دائمی تڑپ کے ماتحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ڈرتے ڈرتے پوچھا یا رسول اللہ ! قیامت کب آئے گی؟ آپ نے فرمایا ” تم قیامت کا پوچھتے ہو کیا اس کے لئے تم نے کوئی تیاری بھی کی ہے؟ اس نے دھڑکتے ہوئے دل اور کپکپاتے ہوئے ہونٹوں سے عرض کیا۔” میرے آقا نماز روزے کی تو کوئی خاص تیاری نہیں۔لیکن میرے دل میں خدا اور اس کے رسول کی کچی محبت ہے۔آپ نے اسے شفقت کی نظر سے دیکھا اور فرمایا ” الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبّ ، پھر تسلی رکھو کہ خدائے و دود کسی محبت کرنے والے شخص کو اس کی محبوب ہستی سے جدا نہیں کرے گا“۔یہ حدیث میں نے بچپن کے زمانہ میں پڑھی تھی۔لیکن آج تک جو میں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گیا ہوں۔میرے آقا کے یہ مبارک الفاظ قطب ستارے کی طرح میری آنکھوں کے سامنے رہے ہیں اور میں نے ہمیشہ یوں محسوس کیا ہے کہ گویا میں نے ہی رسولِ خدا سے یہ سوال کیا تھا اور آپ نے مجھے ہی یہ جواب عطا فرمایا تھا اور اس کے بعد میں اس نکتہ کو کبھی نہیں بھولا کہ نماز اور روزہ اور حج اور زکوۃ سب برحق ہے مگر دل کی روشنی اور