مضامین بشیر (جلد 3) — Page 87
مضامین بشیر جلد سوم 87 مستورات میں سنایا جا سکے گا۔یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و احسان ہے کہ حضرت اماں جان ادام اللہ فیوضہا کی وفات سے صرف دو اڑھائی ماہ پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ مشین ربوہ پہنچا دی۔اور پھر اس مشین کے ذریعہ حضرت اماں جان کی آواز محفوظ کرنے کا خیال بھی آگیا۔بہر حال جن الفاظ میں آواز بھری گئی ہے وہ درج ذیل کئے جاتے ہیں۔خاکسار مرزا بشیر احمد۔اماں جان السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔حضرت اماں جان۔وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ خاکسار مرزا بشیر احمد۔آپ کی آواز ، جماعت برکت کے خیال سے محفوظ کرنا چاہتی ہے۔اگر آپ کی طبیعت اچھی ہو تو جماعت کے نام کوئی پیغام دے کر ممنون کریں۔حضرت اماں جان۔میرا پیغام یہی ہے کہ میری طرف سے سب کو سلام پہنچے جماعت کو چاہئے کہ تقویٰ اور دینداری پر قائم رہے اور اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کی طرف سے کبھی غافل نہ ہو۔اسی میں ساری برکت ہے۔میں جماعت کے لئے ہمیشہ دعا کرتی ہوں۔جماعت مجھے اور میری اولا د کو اپنی دعاؤں میں یادر کھے۔خاکسار مرزا بشیر احمد۔یہ حضرت اماں جان اطال اللہ ظلہا حال مقیم ربوہ کا جماعت احمدیہ کے نام پیغام ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق دے اور حضرت اماں جان کی صحت اور عمر اور فیوض میں برکت عطا کرے۔محرره 7 فروری 1952ء) یہ وہ الفاظ ہیں جن میں 7 فروری 52 ء کو حضرت اماں جان ادام اللہ فیوضہا کی آواز ریکارڈنگ مشین میں بھری گئی۔یہ آواز احتیا ط دو دفعہ بھری گئی تھی۔کیونکہ حضرت اماں جان کے ضعف اور نقاہت کی وجہ سے ایک دفعہ کی کوشش میں کچھ غلطی ہو گئی تھی۔امید ہے دونوں ریکارڈوں کو ملانے اور جوڑنے سے پورا پیغام مکمل ہو جائے گا۔اس کے بعد 20 اپریل 52ء کو حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ دائمی زندگی پانے کے لئے اللہ کے حضور پہنچ گئے۔وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَللِ وَالْإِكْرَامِ ( محررہ یکم جون 1952ء) (روز نامہ الفضل لا ہور 4 جون 1952ء)