مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 84 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 84

مضامین بشیر جلد سوم صدقہ جیسا عمل صالح ہر گز ضائع نہیں جاتا 84 امداد درویشاں اور صدقہ برائے کامل شفایابی حضرت اماں جاں دینے والوں کی فہرست حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے الفضل میں شائع فرمائی۔اس اعلان میں صدقہ اور خدا کی راہ میں دی گئی رقوم بارے ایک وضاحت آپ نے یوں فرمائی۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو رقم کی کمی بیشی کا کوئی سوال نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کی نظر دل کے تقویٰ پر ہوتی ہے اور وہ سب کو ان کی نیتوں اور ان کے اخلاص اور ان کے جذبہ قربانی کے مطابق جزاء دیتا ہے اور بعض اوقات کم رقم دینے والا خدا کے نزدیک جو سارے ظاہر و باطن حالات پر آگاہ ہے زیادہ رقم دینے والے سے بڑا درجہ رکھتا ہے۔لیکن بہر حال اب جبکہ رمضان کا یہ مبارک مہینہ آ رہا ہے اور اس کے بعد عید کی تقریب ہے اور ساتھ ہی سالا نہ امتحانوں کی وجہ سے درویشوں کے بچوں کے تعلیمی اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں تو لازماان ایام میں اس فنڈ کی ضروریات بھی زیادہ ہو جاتی ہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ فہرست ہذا کی میزان میں رقم کی غیر معمولی زیادتی ہمارے آسمانی آقا کے غیر معمولی فضل کی وجہ سے ہے جو ان مستحق درویشوں کی ضرورت پر سب سے زیادہ آگاہ ہے۔جو اس وقت جماعت کی نمائندگی کرتے ہوئے اور ہر قسم کی تنگی برداشت کرتے ہوئے قادیان میں خدمت دین بجالا رہے ہیں۔حضرت اماں جان ادام اللہ فیوضہا کیلئے صدقہ کی رقوم بھجوانے والوں کو تسلی رکھنی چاہئے کہ ان کا یہ عمل صالح خدا کے فضل سے ہرگز ضائع نہیں گیا۔بلکہ جہاں یہ خدمت خود ان کے لئے انشاء اللہ تعالیٰ برکت اور سعادت کا موجب ہوگی وہاں وہ حضرت اماں جان مرحومہ مغفورہ کی روح کیلئے بھی یقین تسکین کا باعث ہوگی کہ ان کی روحانی اولاد نے ان کے لئے کس درد اور سوز سے دعائیں کیں اور صدقات دیئے ہیں۔ہر دعا اور ہر صدقہ کا نتیجہ ظاہری صورت اور مطلوبہ رنگ میں نکلنا ضروری نہیں ہوتا بلکہ جس طرح اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے اسی صورت میں یہ نتیجہ نکلتا ہے۔لیکن بہر حال نکلتا ضرور ہے اور سچے مومنوں کا کوئی نیک عمل کسی صورت میں ضائع نہیں جاتا۔( محرره 13 مئی 1952ء) روزنامه الفضل لاہور 16 مئی 1952ء)