مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 51 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 51

مضامین بشیر جلد سوم 51 کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق اللہ تعالیٰ اسلام کی خدمت اور مسلمانوں کی اصلاح کے لئے ہر صدی کے سر پر مجدد مبعوث کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی ہمیشہ کرتارہے گا۔۔اس تعلق میں یہ شبہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صرف خلافت کے میعادی ہونے پر ہی اعتراض نہیں فرمایا۔بلکہ اس حدیث کی صحت پر بھی جرح فرمائی ہے۔جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد خلافت صرف تمہیں سال تک رہے گی۔اور بڑی تحدی کے ساتھ لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خلافت دائمی ہے اور میعاد کا کوئی سوال نہیں۔سو یہ درست ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بعض جگہ ایسا لکھا ہے۔لیکن اگر غور کیا جائے اور گہری نظر سے کام لیا جائے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں سے یہ بات صاف طور پر ثابت ہوتی ہے کہ دراصل آپ نے مطلقاً اس حدیث کی صحت پر جرح نہیں فرمائی بلکہ اس تشریح پر جرح فرمائی ہے۔جو بعض کج فطرت مولوی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت میں پیش کر رہے تھے۔کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تمیں سال گزرنے پر ہر قسم کی خلافت ختم ہو چکی ہے اور اب کوئی شخص آپ کی روحانی خلافت کا حقدار نہیں بن سکتا۔اور اس طرح وہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی کو باطل ثابت کرنا چاہتے تھے۔پس دراصل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس تشریح کو رد کیا ہے۔نہ کہ اصل حدیث کو۔چنانچہ دوسری جگہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کو (جن کی خلافت کے ساتھ میں سالہ مدت پوری ہوتی ہے ) برحق اور اس کے مقابل پر امیر معاویہ کی امارت کو جو حضرت علی کے بعد اسلامی دنیا کے قائد بنے۔خلافت راشدہ سے خارج قرار دیا ہے چنا نچہ آپ فرماتے ہیں کہ لاریب حضرت علی رضی اللہ عنہ روحانی طالبوں کے مرجع اور خدا کی طرف سے اس کی مخلوق کے لئے ایک حجت تھے اور اپنے زمانہ کے افضل ترین انسان تھے۔اور وہ خدا کی طرف سے ایک نور تھے تا شہروں اور آبادیوں کو منور کریں۔لیکن ان کے زمانہ میں لوگوں کی طرف سے فتنوں کا زور رہا۔اور بعض لوگ ان کے اور امیر معاویہ کے معاملہ میں حیران و پریشان تھے کہ کس کی قیادت کو قبول کریں۔۔۔مگر حق یہی ہے کہ حق علی مرتضیٰ کے ساتھ تھا۔اور جس شخص نے بھی ان کے وقت میں ان کی مخالفت کی وہ باغی اور طاغی تھا“ ( ترجمه از سرالخلافته روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 352-353) اس حوالہ سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت علی تک کی خلافت کو ہی خلافت حقہ قرار دیا ہے۔اور اس کے بعد اس قسم کی خلافت کو ختم سمجھا ہے۔جس سے یہ یقینی نتیجہ نکلتا ہے کہ جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تمہیں سال والی حدیث پر جرح فرمائی ہے۔وہاں دراصل اس حدیث کی صحت پر