مضامین بشیر (جلد 3) — Page vii
vii کہ بزرگان سلسلہ اور کارکنان کی بیماری پر دعائیہ اعلانات کے ذریعہ یا ان میں سے کسی کی وفات پر صفات حسنہ کا ذکر کر کے جماعت کو ان کی جگہ لینے کی تلقین کرتے رہے۔ان متنوع مضامین اور اعلانات واشتہارات کی تعداد ہزاروں میں ہے۔صرف جلد سوم اور چہارم میں یہ تعداد 400 سے بھی زیادہ ہے۔ان ہر دو جلدوں میں آپ کی طرف سے شائع ہونے والے اعلانات واشتہارات کو ہر باب کے اخیر میں مع حوالہ درج کر دیا گیا ہے جس سے افادہ کیا جا سکتا ہے تاہم ان اعلانات میں اگر کسی فرد کی کوئی سیرت بیان ہوئی ہے یا کوئی اسلامی یا فقہی مسئلہ درج ہوا ہے تو اس کو متن کا حصہ بنادیا گیا ہے۔مضامین کو اکٹھا کرنے اور اس کے کچھ حصہ کو کمپوز کروانے میں نے سعادت پائی۔لیکن پروف ریڈنگ میں بہت سے دوست احباب نے تعاون فرما یا بالخصوص غلطیوں کی نشاندہی کی۔اس دوران نے نہایت عرق ریزی سے کام کیا اور نے اس طرف توجہ دلائی کہ حضرت میاں صاحب کے بعض مضامین روز نامہ الفضل کے علاوہ دیگر اخبار و رسائل کی بھی زینت بنتے رہے ہیں وہ بھی لینے چاہئیں۔چنانچہ تلاش کر کے 40 کے قریب مزید مضامین مل گئے۔ان کو بھی شامل کتاب کر دیا گیا اور 1950 ء سے قبل الفضل کے علاوہ دیگر اخبار ورسائل میں شائع ہونے والے مضامین کو جو جلد اول اور دوم کا حصہ نہیں بن سکے باب پنجم میں ضمیمہ کے طور پر شامل کتاب کیا گیا ہے۔حضرت میاں صاحب کے مضمون ”اسلامی خلافت کا نظریہ میں عزل خلافت کا بھی ذکر ہے اس بارہ نے اس طرف توجہ دلائی کہ اس مضمون پر حضرت سید ناخلیفتہ المسیح الثانی نے اپنا وضاحتی نوٹ 3 اپریل 1952ء کے الفضل میں شائع فرمایا میں تھا۔جس میں جماعت کا موقف بیان ہوا ہے۔چنانچہ اس اہم نوٹ کو بھی حاشیہ میں دے دیا گیا ہے۔اور اَلْحَمْدُ لِلَّهِ ثُمَّ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ بِفَضْلِهِ قیادت اشاعت ایسے موقع پر مضامین بشیر کو مکمل کرنے کی سعادت پا رہی ہے جو تاریخ انصار اللہ کا سنگ میل ہے۔جس سال مجلس انصار اللہ اپنے 75 سال پورے کرنے جا رہی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کتب کو تمام احباب کے لئے مفید بنائے اور جس تڑپ اور درد کے ساتھ حضرت میاں صاحب نے یہ علمی، تربیتی اور تبلیغی مضامین تحریر فرمائے ہم ان پر عمل کرنے والے ہوں۔مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب نے مضامین بشیر جلد اوّل