مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 42 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 42

مضامین بشیر جلد سوم 42 دورہ شروع ہو جاتا ہے۔چنانچہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خلفاء کے متعلق فرماتے ہیں۔الْخِلَافَةُ ثَلَاثُونَ عَامًا ثُمَّ يَكُونُ بَعْدَ ذَالِكَ الْمُلْكُ (مسند احمد، کتاب مسند الانصار رضی اللہ عنہم ،حدیث ابی عبد الرحمن سفی یہ مولی ) یعنی میرے بعد خلفاء کا سلسلہ میں سال رہے گا اور اس کے بعد ملوکیت کا رنگ قائم ہو جائے گا۔اور اصولی رنگ میں فرماتے ہیں۔مَا كَانَتْ نَبُوَّةُ قَطُّ إِلَّا تَبْعَتُهَا خِلَافَةٌ وَمَا مِنْ خِلَافَةٌ إِلَّا تَبْعَتُهَا مُلكٌ ( تاریخ دمشق لابن عساکر، عبدالرحمن بن سهل، جزء 34 صفحہ 421) یعنی کوئی نبوت ایسی نہیں گزری جس کے بعد خلافت نہ آئی ہو اور کوئی خلافت ایسی نہیں ہوئی جس کے بعد حکومت کا رنگ نہ قائم ہوا ہو۔ان احادیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خلافت کا زمانہ میں سال قرار دیا ہے اور تاریخ سے ثابت ہے کہ یہ زمانہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت سے لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت تک پورا ہو جاتا ہے جس کے بعد ملوکیت کا دور دورہ شروع ہو گیا اور اوپر والی احادیث سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ یہی صورت ہر نبی کے زمانہ میں ہوتی ہے کہ پہلے نبوت قائم ہوتی ہے اور اس کے بعد خلافت آتی ہے اور اس کے بعد ملوکیت یعنی بادشاہت اور حکومت کا رنگ شروع ہو جاتا ہے۔( اصل الفاظ پڑھے نہیں جار ہے۔ناقل ) یہی ہے کہ کسی نبی کے بعد خلافت کا سلسلہ دائمی طو پر نہیں چلتا بلکہ صرف اس وقت تک چلتا ہے جب تک کہ خدا تعالیٰ نبوت کے کام کی تکمیل کے لئے ضروری خیال فرمائے اور قومی اور جماعتی تربیت کے لحاظ سے بھی یہی مناسب ہے کہ نبوت سے آغا ز کر کے جو گویا خدا تعالیٰ کی براہ راست نگرانی کا زمانہ ہے اور اس کے بعد خلافت وسطی زمانہ میں سے گزار کر جو گویا ایک مخلوط قسم کا رنگ رکھتا ہے بالآخر الہی جماعت کو خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے اور اس کی تربیت حاصل کرنے کے لئے آزاد کر دیا جائے۔اس آخری زمانہ کو ملک یا ملوکیت کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔جس میں عربی اصطلاح کے مطابق امیر اور بادشاہ اور وقتی صد ر حکومت اور مجلس مشاورت وغیرہ سب قسم کے نظام شامل ہیں اور بنوامیہ اور بنوعباس کے خلفا ء سب اسی نوع میں داخل تھے۔گو وہ غلط طور پر خلیفہ بھی کہلاتے رہے۔حقیقتا اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ ایک نہایت عجیب و غریب دور ہے۔سب سے پہلے اور سب سے اول نمبر پر نبوت کا زمانہ ہے۔جس میں گویا خدا تعالیٰ خود سامنے آکر ایک شخص کو اپنے براہ راست الہام اور حکم سے کھڑا کرتا ہے۔اس