مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 601 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 601

مضامین بشیر جلد سوم 601 اس زمانہ میں گویا اسلام کی زندگی اور موت کا دار ومدار ہے اور کجا مسجدوں میں رفع یدین اور آمین بالجہر کے ناگوار جھگڑے !! چه نسبت خاک را با عالم پاک۔بالآخر میں اپنے عزیز بھائیوں اور دوستوں کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ گزر گیا اور حضور کے صحابہ میں سے بھی اکثر خدا کے حضور پہنچ گئے۔اب تعداد کے لحاظ سے کثرت اور تربیت کے لحاظ سے من حیث الجماعت کمزوری کا زمانہ آرہا ہے۔بے شک خدا کے فضل سے احمدیت کے آسمان پر نئے نئے چاند اور نئے نئے ستارے قیامت تک چمکتے رہیں گے اور انفرادی لحاظ سے ان میں سے بعض پہلوؤں سے بھی آگے نکل سکتے ہیں اور انشاء اللہ نکلیں گے مگر وہ کہکشاں کا سا منظر جب کہ ستاروں کی کثرت سے گویا آسمان ڈھک جاتا ہے۔اس کی امید اب کسی آئندہ مامور مصلح سے پہلے کم نظر آتی ہے۔وَاللهُ أَعْلَمُ۔پس دوست اس نصیحت کو یا درکھیں اور کبھی نہ بھولیں کہ جماعت کا اتحاد بڑی قدر و منزلت کی چیز ہے۔اسے چھوٹی چھوٹی سی باتوں میں الجھ کر کبھی ضائع نہیں کرنا چاہئے۔کئی باتیں تو ایسی ہوتی ہیں کہ ان میں اسلام از خود لوگوں کے ذاتی حالات اور ذاتی مذاق کا خیال رکھتے ہوئے مختلف اور متغائز طریقے اختیار کرنے کی اجازت دیتا ہے۔پس ان میں تو اختلاف کا سوال پیدا ہی نہیں ہوسکتا۔اور کئی باتیں ایسی ہوتی ہیں جن میں جائز اختلاف کی گنجائش تو بے شک ہوتی ہے مگر یہ باتیں ایسی اہم نہیں ہوتیں کہ ان کی وجہ سے جماعت کے اتحاد کو خطرہ میں ڈالا جائے۔بلکہ ایک کم اہم صداقت کو قربان کر کے بھی اتحاد جیسی اہم ترین چیز کو قائم رکھنا پڑتا ہے۔یہی ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے اور اسی قربانی کی روح پر صحابہ کرام کا عمل تھا۔پس اب جبکہ رمضان کے مبارک مہینہ کا آخری حصہ گزر رہا ہے میں دوستوں کی خدمت میں بڑی محبت اور بڑے ادب سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئندہ کے لئے خدا کے حضور پختہ عہد کریں کہ وہ ہمیشہ جماعت کے اتحاد کو قائم رکھیں گے اور کبھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر آپس میں اختلاف نہیں کریں گے۔اور اگر خدانخواستہ کسی معاملہ میں اختلاف پیدا ہو گا تو اسے فوراً بھائیوں کی طرح آپس میں بیٹھ کر یا اپنے مقامی امیر یا کسی دوسرے غیر جانب دار عقل مند ہمدرد ثالث کے ذریعہ فیصلہ کرا کر یا مرکز کی طرف رجوع کر کے( کیونکہ جماعتی اتحاد کا مرکزی نقطہ جماعت کا صدر مقام اور خلیفہ وقت کا وجود ہی ہیں ) اپنے اختلاف کو فوراً دور کر لیں گے اور اسے کسی صورت بڑھنے نہیں دیں گے۔دیکھو قرآن مجید کی محبت اور کس در دمند رنگ میں فرماتا ہے کہ: وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَّلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِةٍ اِخْوَانًا (آل عمران : 104) وَأَطِيعُوا الله