مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 39 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 39

مضامین بشیر جلد سوم 39 کے زمانہ میں نظر آتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رسالہ الوصیت میں اس کی بڑی لطیف تشریح فرمائی ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں۔یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ اس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا۔ہمیشہ اس سنت کو وہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے۔۔۔۔اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اس کی تخم ریزی انہی کے ہاتھ سے کر دیتا ہے۔لیکن اس کی پوری تکمیل ان کے ہاتھ سے نہیں کرتا بلکہ ایسے وقت میں ان کو وفات دے کر جو بظاہر ایک نا کامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے۔مخالفوں کو ہنسی اور ٹھٹھے اور طعن اور تشنیع کا موقع دے دیتا ہے اور جب وہ ہنسی ٹھٹھا کر چکتے ہیں تو پھر ( خلفاء کے ذریعہ ) ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے اور ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن کے ذریعہ وہ مقاصد جو کسی قدرنا تمام رہ گئے تھے اپنے کمال کو پہنچے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق کے وقت میں ہوا رساله الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 304-305) پس خلافت دراصل نبوت کے نظام کا تتمہ ہے جسے انگریزی میں کرالوری (Corollary) یا سپلیمنٹ (Supplement) کہتے ہیں۔کیونکہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے۔کسی نبوت کا کام خلافت کے بغیر تکمیل کو نہیں پہنچتا۔تو جب یہ صورت حال ہے تو خلیفہ کے متعلق یہ سمجھنا کہ وہ اپنی مرضی کی چیز ہے کہ جب چاہا بنالی اور جب چاہا تو ڑ دی۔ایک طفلانہ خیال سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جن سے بڑھ کر کوئی شخص دنیا کے پردہ پر راز دار حقائق روحانی نہیں گزرا فرماتے ہیں۔مَا كَانَتْ نَبُوَّةُ قَطُّ إِلَّا تَبْعَتُهَا خِلَافَةٌ تاریخ دمشق لابن عسا کر، عبدالرحمن بن سھل ، جزء 34 صفحہ 421) یعنی کبھی کوئی نبوت ایسی نہیں ہوئی کہ اس کے بعد خدا تعالیٰ نے خلافت نہ قائم کی ہو۔پس خلافت کے متعلق عزل کا سوال در اصل خلافت کے جسم پر عمل جراحی کے مترادف ہے۔کیونکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ انسان ایک ہی جسم کے آدھے دھڑ کو سلامت رکھ کر اسی جسم کے دوسرے آدھے حصہ کو کاٹنے کی کوشش کرے۔اور یہ کہنا کہ خلیفہ تو غلطی کر سکتا ہے لیکن نبی غلطی نہیں کرتا۔اس لئے خلیفہ کے عزل کی اجازت ہونی چاہئے ایک کوتاہ نظری کا شبہ ہوگا۔کیونکہ گو بیشک درجہ میں بڑا فرق ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ بشر ہونے کے لحاظ سے نبی بھی اجتہادی غلطی کر سکتا ہے۔حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے متعلق فرماتے ہیں کہ جب میرے پاس دو شخص اپنے حقوق کا مقدمہ لاتے ہیں تو ہوسکتا ہے کہ میں ایسے شخص کے حق