مضامین بشیر (جلد 3) — Page 23
مضامین بشیر جلد سوم 23 پیوست ہوں کہ گویا ان کے رخنوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈال کر انہیں یک جان کر دیا گیا ہے۔الغرض اسلام آزادی کو ایک بڑی نعمت قرار دے کر اس کے برقرار رکھنے کے لئے امن اور جنگ ہر دو پہلوؤں کے لحاظ سے ایسی زریں تعلیم دیتا ہے کہ اس پر کار بند ہو کر کوئی اسلامی حکومت آزادی کی نعمت کو ایک دفعہ پانے کے بعد اُسے پھر ضائع نہیں کر سکتی اور اگر وہ اسے ضائع کرے گی تو اپنی ہی کسی غفلت اور کوتا ہی کے نتیجہ میں ضائع کرے گی کیونکہ اللہ تعالی قرآن میں صاف صاف فرماتا ہے أَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُتُ في الْأَرْضِ (الرعد:18) یعنی جو چیز لوگوں کو حقیقی نفع پہنچانے والی ہوتی ہے وہ دنیا میں قائم رہتی ہے۔خدا کرے کہ ہم خدا کی نعمتوں سے پورا پورا فائدہ اٹھانے والے اور اپنی قومی اور ملکی زندگی کو لمبے سے لمبا کرنے والے ثابت ہوں اور انشاء اللہ ایسا ہی ہوگا۔مِینَ یا اَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَظِيم نوٹ۔جو اصحاب اسلامی ضابطہ جنگ کے متعلق میرا مفصل مضمون دیکھنا چاہیں وہ الفضل مورخہ 23 ستمبر 1948 ء میں ملاحظہ فرمائیں۔(محرره 11 اگست 1957 ء ) روزنامه الفضل لاہور 17 اگست 1951 ء) لالہ ملا وامل صاحب کی وفات لالہ ملا وامل صاحب سکنہ قادیان کی وفات کے متعلق محترمی بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کا نوٹ الفضل میں شائع ہوا ہے۔لالہ صاحب موصوف جو قادیان میں طبابت اور دواسازی کا کام کرتے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدیم نیز اہم ملاقاتیوں میں سے تھے۔حتی کہ آج سے 67 سال قبل جبکہ 1884ء میں ہماری والدہ صاحبہ حضرت ام المومنین اطال اللہ ظلھا کے رخصتانہ کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دتی تشریف لے گئے تو اس وقت بھی لالہ ملا وامل صاحب حضور کے ہمراہ تھے۔چونکہ لالہ صاحب موصوف کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بہت سے نشانات دیکھنے کا موقع ملا تھا۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب میں کئی جگہ ان کا اور ان کے ساتھی لالہ شرمیت صاحب کا جو وہ بھی قادیان ہی کے رہنے والے تھے بطور گواہ ذکر فرمایا ہے۔لالہ شرمیت صاحب کئی سال ہوئے وفات پا