مضامین بشیر (جلد 3) — Page 382
مضامین بشیر جلد سوم 382 اس شرم کے مارے حضرت خلیفہ اول کی گردن جھک جائے گی جس طرح حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی گردن شرم کے مارے جھک جائے گی جن کے بیٹے نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے داماد اور آپ کے پیارے خلیفہ (عثمان) پر حملہ کیا۔“ سواگر یہ غیر مصدقہ الفاظ من وعن حضرت خلیفہ المسح الانی امید اللہ تعالی ہی کے ہیں تو تب بھی کسی قسم کے اعتراض کی گنجائش نہیں کیونکہ یہ ایک اصولی نوعیت کا کلام ہے۔جس میں صرف یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ اپنی اولاد میں سے بعض کی خرابی کی وجہ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول اس مخصوص خوشی سے محروم ہو گئے جو ایک نیک انسان کو اپنی اولاد کو نیک دیکھ کر ہوا کرتی ہے اور قیامت کے دن ہوگی۔اس میں کیا شبہ ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ایک اعلیٰ درجہ کے پاکباز بزرگ تھے جنہیں تمام اہل سنت و جماعت نے سارے صحابہ میں اول نمبر پر شمار کیا ہے۔اسی طرح حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں نہایت ممتاز مقام رکھتے تھے اور یقیناً ان ہر دو بزرگوں کی خوشی دوبالا ہو جاتی اگر انہیں یہ معلوم ہوتا کہ ہمارے پیچھے ہماری ساری اولا د نے بھی ہما را سچا ورثہ پایا ہے اور یہی وہ احساس ہے جس کے فقدان کو اوپر کے حوالہ میں شرم کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ورنہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں، ہم جانتے ہیں اور سارے مسلمان جانتے ہیں کہ الَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخرى (النجم : 39) کے اصول کے ماتحت کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھایا کرتا۔خواہ وہ بیٹا ہی ہو یا کہ کوئی اور رشتہ دار ہو، یا کہ کوئی غیر ہو۔پس شرم کے لفظ سے یقیناً صرف وہ احساس مراد ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں جو ایک نیک انسان کو اپنی اولاد میں سے کسی کو جادہ صواب سے منحرف دیکھ کر طبعا ہوا کرتا ہے اور ہونا چاہئے۔خود ہمارے آقا سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق صحیح حدیث میں آتا ہے کہ جب قیامت کے دن آپ اپنے صحابہ کی ایک پارٹی کو دیکھیں گے کہ خدا کے فرشتے انہیں دوزخ کی طرف دھکیلے لئے جارہے ہیں تو آپ نہایت دردمند دل کے ساتھ فرمائیں گے كمْ أَصَيْحَابِي أَصَيْحَابی ، یعنی یہ تو میرے صحابہ ہیں، یہ تو میرے صحابہ ہیں۔جس پر فرشتے رسول پاک (فداہ نفسی) سے عرض کریں گے کہ یا رسول اللہ ! آپ نہیں جانتے کہ یہ لوگ آپ کی وفات کے بعد کن اعمال کے مرتکب ہوئے ؟ اسی طرح حضرت نوح علیہ السلام کے متعلق قرآن مجید بیان کرتا ہے کہ جب انہوں نے اپنے ایک بیٹے کو طوفان میں غرق ہوتے دیکھا اور دوسری طرف خدا کا یہ وعدہ یاد کیا کہ تیرے اہل وعیال کو عذاب سے