مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 350 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 350

مضامین بشیر جلد سوم 350 دوسری بات میں نے یہ کہی تھی اور اسے بھی مزید تاکید کے ساتھ دہرانا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریک کے ماتحت دوستوں کو اس رمضان میں اپنی کسی کمزوری کو سامنے رکھ کر اس کے ترک کرنے کا عہد کرنا چاہئے اور اس طرح رمضان کی برکات کو گویا مجسم اور معین صورت دے کر زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہئے۔ہر انسان میں کوئی نہ کوئی کمزوری ہوتی ہے خواہ وہ حقوق اللہ سے تعلق رکھتی ہو یا کہ حقوق العباد سے اور خواہ وہ ذاتی ہو یا کہ جماعتی اور خواہ وہ رشتہ داروں کے حقوق سے متعلق ہو یا دوستوں اور ہمسایوں سے اور خواہ وہ اپنوں پر اثر انداز ہوتی ہو یا کہ غیروں پر اور خواہ اس کا تعلق نیکی کے ترک سے ہو یا کسی بدی کے ارتکاب سے اور خواہ وہ افسروں سے متعلق ہو یا ماتحتوں سے۔الغرض بیسیوں بلکہ سینکڑوں قسم کی کمزوریاں ہیں جو انسان کے اخلاق میں راہ پا کر اس کے اخلاق اور دین کو خراب کرتی اور خدا سے دور لے جاتی ہیں۔دوستوں کو چاہئے کہ رمضان میں اپنی کمزوریوں میں سے کسی کمزوری کو سامنے رکھ کر ( دوسروں پر کمزوری کی نوعیت ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں ) دل میں خدا سے عہد کریں کہ وہ آئندہ بہر حال اس کمزوری سے مجتنب رہیں گے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر جماعت کے بیس فیصدی دوست بھی اس تجویز کے مطابق عمل کریں تو چند دن کے اندر اندر جماعت کے ہزاروں افراد نیکی کی طرف معین قدم اٹھا کر خدا کا قرب حاصل کر سکتے ہیں۔یوں تو ہر شخص اپنے حالات کو بہتر سمجھتا ہے مگر میں اپنے علم کے مطابق جماعت کی مجموعی اصلاح کے پیش نظر ذیل کی چار بنیادی کمزوریوں کے ترک کو دوسری باتوں پر ترجیح دیتا ہوں : (1) نماز اور خصوصاً خشوع و خضوع کی نماز میں سستی۔(2) جماعتی چندوں کے معاملہ میں غفلت۔(خواہ بالکل عدم ادائیگی کے رنگ میں ستی ہو یا کہ شرح میں کمی کی سستی ) (3) لین دین کے معاملہ میں خرابی اور جھوٹ کی عادت۔(4) اولاد کی دینی تربیت میں کوتا ہی۔اگر ہمارے دوست ان چار باتوں اور ان کے لوازمات میں نمایاں امتیاز پیدا کر لیں تو وہ اپنی عملی تبلیغ سے ہی دنیا میں ایسا عظیم الشان تغیر پیدا کر سکتے ہیں جو غالبا سالہا سال کی قولی تبلیغ سے بھی پیدا نہیں ہوسکتا اور جن دوستوں کو خدا کے فضل سے یہ باتیں پہلے سے میسر ہوں یا وہ زیادہ ہمت نہ پاتے ہوں تو وہ فی الحال اپنی 6 go دوسری کمزوریوں مثلاً رشوت، غیبت، والدین کی خدمت میں غفلت، بیوی سے بدسلوکی ، ہمسائیوں سے بدسلوکی ، تجارت میں دھوکہ دہی وغیرہ وغیرہ میں سے ہی کسی کمزوری کو سامنے رکھ کر اس کے متعلق اپنے دل